''جنرل کیانی شمالی وزیرستان میں آپریشن نہیں چاہتے تھے''

اعلیٰ فوجی قیادت نے تین سال قبل آپریشن کا فیصلہ کرلیا تھا:میجر جنرل اطہرعباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سابق سربراہ میجر جنرل اطہرعباس نے انکشاف کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی شمالی وزیرستان میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کے حق میں نہیں تھے اور متردد تھے حالانکہ فوجی قیادت نے تین سال قبل اس آپریشن کا فیصلہ کر لیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے سابق ڈائریکٹر جنرل نے بی بی سی اردو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ فوجی قیادت 2010ء میں شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع کرنے کے حق میں تھی لیکن جنرل کیانی نے اس کا حتمی فیصلہ نہیں کیا تھا،اس لیے یہ آپریشن شروع نہیں ہوسکا تھا۔

ریٹائرڈ میجر جنرل اطہرعباس سے جب سوال کیا گیا کہ کیا سابق آرمی چیف اپنی ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے آپریشن شروع کرنے کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار تھے تو ان کا جواب تھا کہ ''یہ بات درست ہے۔وہ شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع کرنے میں تاخیر کرتے رہے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ سمجھا جائے گا۔اسی وجہ سے انھوں نے اس فیصلے کو موخر کردیا اور اس کا ہمیں بھاری خمیازہ بھگتنا پڑا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''عدم فیصلے کی وجہ سے بہت زیادہ وقت ضائع ہوگیا اور ملک ،عوام ،حکومت اور مسلح افواج کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑی ہے کیونکہ آپریشن کی تاخیر سے انتہا پسند مضبوط ہوگئے،ان کی تعداد میں اضافہ ہوگیا،ان کے پاس وسائل کی کثرت ہوگئی اور میری رائے میں اس سے چیزیں بہت زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہیں''۔

انھوں نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں تعینات فوجی کمانڈروں کی سفارشات اور علاقے سے اکٹھی کی گئی انٹیلی جنس رپورٹس کی روشنی میں اعلیٰ فوجی قیادت نے آپریشن کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ برسرزمین تعینات ملٹری کمانڈروں کی رائے یہ تھی کہ جنگجوؤں کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کے بغیر ملک میں امن قائم نہیں ہوگا کیونکہ علاقے میں ہرطرح کے جنگجو جمع ہوچکے تھے۔

میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا تھا کہ اس سے قبل اعلیٰ فوجی قیادت میں شمالی وزیرستان میں کارروائی سے متعلق دو طرح کی آراء پائی جاتی تھیں۔ایک گروپ فوجی کارروائی کے حق میں تھا اور دوسرا اس میں تاخیر چاہتا تھا۔انھوں نے بتایا کہ حقانی نیٹ ورک کے ساتھ نمٹنے کا معاملہ بھی تاخیر کی ایک وجہ تھی۔اس کے علاوہ علاقے سے نقل مکانی کرنے والے افراد کا ایشو بھی درپیش تھا۔

پاک فوج کے سابق ترجمان اعلیٰ کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے پاکستان پر شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع کے لیے مسلسل دباؤ بھی عدم فیصلہ کا ایک سبب بنا تھا کیونکہ پاکستانی حکام سمجھتے تھے کہ اگر وہ کارروائی کا فیصلہ کرتے ہیں تو اسے امریکی دباؤ کا شاخسانہ قرار دیا جائے گا اور امریکیوں ہی کا فیصلہ قرار دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں