بحران کے حل کے لیے 24 گھنٹے ،پاک فوج ثالث

عمران خان کی راول پنڈی میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے دینے والے دونوں احتجاجی لیڈروں عمران خان اور طاہرالقادری نے اپنے حامیوں اور عوام کو خوش خبری سنائی ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو بحران کے حل کے لیے ثالث اور ضامن مقرر کیا ہے۔

طاہر القادری اور عمران خان نے ڈی چوک میں دھرنا دینے والے اپنے حامیوں سے جمعرات کی شب ولولہ انگیز تقریروں میں کہا ہے کہ انھوں نے جنرل راحیل شریف کی یقین دہانی پر وزیراعظم میاں نوازشریف کو بحران کے حل کے لیے چوبیس گھنٹے کا وقت دیا ہے۔

ان دونوں لیڈروں نے اپنے اپنے حامیوں پر زوردیا ہے کہ وہ مزید ایک دن کے لیے اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر موجود رہیں اور وہ ڈیڈلائن کے اندر بحران حل نہ ہونے کی صورت میں اپنے آیندہ کے لائحہ عمل کا جمعہ کو اعلان کریں گے۔

عمران خان اپنے حامیوں کو بحران کے حل کے لیے یہ نئی خوش خبری سنانے کے بعد رات گیارہ بجے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کے لیے کسی نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہوگئے۔وہ گذشتہ دس روز سے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اپنے کنٹینر ہی میں موجود رہے تھے اور یہ پہلا موقع ہے کہ وہ دھرنے کے شرکاء کو چھوڑ کر کہیں گئے ہیں۔

یہ بتایا جارہا ہے کہ عمران خان اور طاہرالقادری کی درمیان راول پنڈی میں آرمی چیف سے ملاقات کررہے ہیں۔اس ملاقات میں وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان اور پاک فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام بھی موجود ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل ،میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ٹویٹر پر یہ اطلاع دی ہے کہ آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات راول پنڈی میں ہو رہی ہے۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں دراصل چودھری نثار علی خان اور عمران خان سے بات چیت ہورہی ہے اور ان کے درمیان جو کچھ طے پائے گا،آرمی چیف اس کے ضامن ہوں گے۔

اس نئی پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی ثالثی سے متعلق اعلان دونوں احتجاجی لیڈروں نے کیا ہے اور دم تحریر حکومت یا آرمی کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔تاہم انھوں نے حکومت کے موقف کے حوالے سے واضح طور پر کچھ کہنے سے گریز کیا ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم نوازشریف سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ملاقات کی تھی اور یہ دو دن میں ان کے درمیان دوسری ملاقات تھی۔اس کے تناظر میں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ میاں نواز شریف اور جنرل راحیل شریف اہم پالیسی امور اور حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کے خاتمے سے متعلق ایک سمجھوتے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے اس ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا کہ جنرل راحیل شریف نے ملک میں جاری موجودہ سیاسی بحران کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت نے آرمی چیف کو بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے کہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں