کوئٹہ میں بس پر فائرنگ، 08 افراد جاں بحق
شیعہ ہزارہ کیمونٹی کو گذشتہ کئی سالوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے
پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی کے قریب فائرنگ سے آٹھ [08] افراد جاں بحق ہو گئے۔
سپرٹینڈنٹ پولیس سریاب عمران قریشی نے میڈیا کو بتایا کہ ہزار گنجی کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان نے ایک گاڑی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود 9 افراد شدید زخمی ہو گئے جنہیں اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ ان میں سے 08 افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ فائرنگ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں بھی کوئٹہ کے شیعہ اکثریتی علاقے ہزارہ ٹاؤن میں ایک خودکش حملے میں 6 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہو گئے تھے۔
گذشتہ ہفتے ہی ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بلوچستان میں مذہبی شدت پسندی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک منصوبہ بندی کے تحت مذہبی شدت پسندی کے لیے جگہ پیدا کی جا رہی ہے۔
پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم ادارے ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے مطابق 1999 سے 2012 تک تیرہ برس کے عرصے میں آٹھ سو شیعہ ہزارہ ہلاک کیے گئے جبکہ 2013 کے ابتدائی چند ہفتوں میں ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں دو سو سے زائد افراد کی جان گئی۔
2013 میں ہزارہ برادری کی تنظیم ہزارہ قومی جرگہ اور شیعہ تنظیم قومی یکجہتی کونسل کے اعداد وشمار کے مطابق جان و مال کو درپیش خطرات کی وجہ سے 1999 سے لے کر فروری 2013 تک تقریباً دو لاکھ ہزارہ بلوچستان چھوڑ کر پاکستان کے دیگر شہروں میں منتقل ہوئے یا پھر ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔