القاعدہ کمانڈر جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی میں ہلاک
جنرل راحیل شریف کا پاکستان سے تمام دہشت گردوں کے خاتمے کا عزم
پاکستان کی فوج نے کہا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ہفتہ کو ایک کارروائی کے دوران القاعدہ کا اہم رہنما عدنان الشکری الجمعہ مارا گیا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک بیان کے مطابق اس کارروائی میں الشکری الجمعہ کا ایک مقامی معاون اور ساتھی بھی مارا گیا جب کہ پانچ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔ اس دوران ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں ایک سکیورٹی اہلکار جاں بحق اور ایک زخمی بھی ہوا۔
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ’’آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس کارروائی میں حصہ لینے والی ٹیم کو سراہا۔‘‘
ان کے بقول جنرل راحیل نے ایک بار پھر کہا کہ ’’پاکستان کی سر زمین سے تمام شدت پسندوں کو ختم کر دیا جائے گا اور کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا۔‘‘
الشکری الجمعہ شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کی وجہ سے فرار ہو کر شین وارسک کے علاقے میں روپوش تھا جہاں سکیورٹی فورسز نے ہفتہ کو علی الصباح چھاپا مارا۔
امریکا نے اس کے بارے میں اطلاع دینے والے کے لیے پچاس لاکھ ڈالر کا انعام بھی مقرر کر رکھا تھا۔ عدنان الشکری الجمعہ القاعدہ کا ایک اہم رہنما اور بیرونی کارروائیوں کا انچارج تھا۔
سعودی عرب میں پیدا ہونے والا 39 سالہ عدنان الشکری الجمعہ بچپن میں اپنے والدین کے ہمراہ امریکہ منتقل ہو گیا تھا۔ اس پر 2010 میں امریکہ اور برطانیہ میں دہشت گردی کے منصوبے میں فرد جرم بھی عائد کی گئی تھی۔
-
القاعدہ سے پاکستان میں اغوا امریکی کی جلد رہائی کی اپیل
حال ہی میں جاری کردہ ویڈیو سے وین اسٹین کے زندہ ہونے کا یقین نہیں ہوا:خاندان
پاكستان -
افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ منظم ہو رہی ہے، امریکی حکام
مرکز افغانستان کے شمالی صوبے اور پاکستان کے قبائلی علاقے ہیں
بين الاقوامى -
ایران میں بلوچ اور اہل سنت کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں: جیش العدل
پاکستان اور القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں: صلاح الدین فاروقی
مشرق وسطی