.

پشاور: آرمی اسکول پر دہشت گرد حملہ ، 141 شہید

ملک میں تین دن کے سوگ کا اعلان، قومی پرچم سرنگوں رہے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع آرمی پبلک سکول پر طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 141 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ ان میں 132 بچے شامل ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان میاں نوازشریف نے اس واقعے پر تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کی صبح پشاور میں ورسک روڈ پر واقع آرمی پبلک سکول میں ایف سی کی وردی میں ملبوس آٹھ سے دس مسلح دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا۔انھوں نے عمارت میں داخل ہونے کے بعد اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اور بچوں کو یرغمال بنا لیا۔پھر وہ انھیں قریب سے اپنی گولیوں کا نشانہ بناتے رہے۔جاں بحق ہونے والے نو افراد اسکول کے عملے کے ارکان ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے پشاور میں میڈیا کو بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اسکول پر حملہ کرنے والے تمام سات دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے اور تمام عمارت کو کلئیر کر لیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے خودکش جیکٹس پہن رکھی تھیں۔ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جان سے مارنا تھا اور وہ بچوں کو یرغمال بنائے رکھنے کے مشن سے نہیں آئے تھے بلکہ انھوں نے اسکول کی عمارت میں داخل ہونے کے ساتھ ہی فائرنگ شروع کر دی تھی۔

میجر جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ اسکول کے بچوں کو نشانہ بنانے والے مسلمان تو کیا انسان بھی نہیں تھے۔دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا اور تمام دہشت گردوں کے خاتمے تک اس کو روکا نہیں جائے گا۔

پاکستان کی وفاقی اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے اس واقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ وزیرِ اعظم میاں نوازشریف صورت حال کی نگرانی کرنے کے لیے خود پشاور پہنچ گئے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی پشاور پہنچ گئے ہیں۔ زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نےاس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور اس کو شمالی وزیرستان میں پاک آرمی کے آپریشن ضربِ عضب اور خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبر ون کا رد عمل قرار دیا ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج گذشتہ چند ماہ سے شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں اور اس دوران فوج کی جانب سے شدت پسندوں سے وسیع علاقہ کلیئر کروانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

تین روزہ سوگ کا اعلان

وزیرِ اعظم نواز شریف نے پشاور میں پاکستانی فوج کے زیرِ انتظام چلنے والے اسکول پر طالبان کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قومی سانحہ قرار دیا ہے۔نواز شریف نے اس واقعے پر ملک بھر میں تین روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے اور بدھ کی صبح پشاور میں تمام قومی پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ حملہ جرم کے ساتھ ساتھ پرلے درجے کی دہشت گردی اور بزدلی بھی ہے،اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے، وہ کم ہے۔ اسکول کے جاں بحق ہونے والے بچے میرے تھے''۔انھوں نے کہا کہ جب تک ملک کو دہشت گردی سے مکمل طور پر پاک نہیں کیا جاتا تب تک جدوجہد اور جنگ جاری رہے گی اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔

سیاسی جماعتوں کا ردعمل

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے پشاور میں سکول پر طالبان کے حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے جبکہ تحریکِ انصاف نے اس واقعے کے بعد ملک گیر احتجاج کی کال ملتوی کر دی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اسلام آباد سے پشاور روانہ سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور میں بچوں پر حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے، وہ کم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’جن گھروں پر اور جن خاندانوں پر یہ قیامت گزر رہی ہے میں ان سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جس نے بھی یہ کیا ہے جتنی سخت ہم مذمت کر سکیں وہ کم ہے، اس کی کوئی توجیہہ نہیں کی جا سکتی ہے، یہ انتہا ہے جس طرح بچوں کو مارا گیا ہے۔‘

عمران خان نے مسلم لیگ نواز کے ساتھ آج ہونے والے مذاکرات موخر کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے ملک بھر میں 18 دسمبر کو ملک گیر احتجاج کے لیے دی گئی کال بھی ملتوی کر دی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور نے پشاور اسکول حملے کے بارے میں کہا کہ '’یہ نہ یہودیوں اور نہ ہی ہندوؤں بلکہ ہمارے مسلمان افراد نے کیا ہے جو نہایت ہی شرمناک ہے''۔

جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے پشاور میں اسکول پر حملے کو ’بدترین‘ واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ 18 کروڑ عوام کے لیے ایک بہت بڑا پیغام ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں اور مرکزی، صوبائی اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عام افراد کے تحفظ کو یقینی بنائے۔