.

شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ، سات شدت پسند ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقے میں ایک امریکی ڈرون حملے میں سات شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ پاکستانی فوج کے ذرائع نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارےکو بتایا کہ یہ حملہ شمالی وزیر ستان میں کیا گیا۔

پاکستانی فوج کے ایک اہلکار نے نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ بغیر پائلٹ کے جاسوس امریکی طیارے نے شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں شدت پسندوں کے دو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس اہلکار نے مزید بتایا گیا کہ افغانستان سے متصل اس سرحدی علاقے میں ڈرون طیارے نے دو مختلف حملے کیے۔ ابتدائی طور پر ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی شناخت کے بارے میں نہیں بتایا گیا تاہم حکام کے بقول مرنے والوں میں ازبک شدت پسند بھی شامل ہیں۔

پشاور میں 16 دسمبر کو آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ امریکی ڈرون طیاروں نے شمالی علاقہ جات میں دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس سے قبل بیس دسمبر کو کیے جانے والے ڈرون حملے میں پانچ شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

پشاور حملے کے بعد جوابی کارروائی میں پاکستانی فوج اب تک دو سو سے زائد عسکریت پسندوں کو ہلاک کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں درجنوں مشتبہ شدت پسندوں کو زیر حراست بھی لیا جا چکا ہے۔

ایک پولیس افسر فیصل کامران نے غیر ملکی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ پشاور کے قریب واقع ایک خفیہ ہسپتال سے کم از کم پینتیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس ہسپتال میں اُن شدت پسندوں کا علاج کیا جاتا تھا، جو افغانستان میں بین الاقوامی امن دستوں پر حملوں یا اسی طرح کی دیگر دہشت گردانہ کارروائیوں کے دوران زخمی ہو جاتے تھے۔

پاکستانی فوج کی جانب سے رواں برس جون کے وسط سے شمالی وزیرستان اور دیگر علاقوں میں آپریشن ’ضرب عضب‘ جاری ہے۔ افواج پاکستان کے دعوؤں کے مطابق اس دوران شمالی وزیرستان کے بیشتر حصوں کو دہشت گردوں سے پاک کیا جا چکا ہے۔ اس دوران سترہ سو شدت پسندوں کے ہلاک کیے جانے کی اطلاع ہے جبکہ ضرب عضب میں اب تک فوج کے 126 اہلکار بھی جاں بحق ہو چکے ہیں۔