.

پشاور:امام بارگاہ پر حملہ ،20 افراد ہلاک

کالعدم گروپ جنداللہ نے حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں اہل تشیع کی ایک امام بارگاہ پر خودکش بمباروں کے حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں بیس افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام اور عینی شاہدین کے مطابق مسلح خود کش حملہ آوروں نے پشاور کے علاقے حیات آباد کے فیز پانچ میں واقع امامیہ مسجد امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے وقت گھس کر دھماکے کیے ہیں اور نمازیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراطلاعات مشتاق غنی نے حملے میں بیس افراد کی ہلاکت اور پچاس سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے الگ ہونے والے گروپ جنداللہ نے دہشت گردی کے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور ایک ای میل بیان میں کہا ہے کہ یہ حملہ دسمبر میں پھانسی چڑھنے والے دہشت گرد ڈاکٹر عثمان کا انتقام لینے کے لیے کیا گیا ہے۔

جنداللہ نے دھمکی دی ہے کہ ''اب خون کے بدلے خون بہایا جائے گا اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔حکومت کو اب زیادہ سخت ردعمل کی توقع رکھنی چاہیے''۔اس گروپ نے ایک تصویر بھی پوسٹ کی ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ اس میں نظر آنے والے جنگجوؤں نے امام بارگاہ پر حملہ کیا ہے۔

قبل ازیں ایک عینی شاہد نے صحافیوں کو بتایا کہ امام بارگاہ میں جمعہ کی نماز کی ادائی کے وقت پانچ سے چھے حملہ آور داخل ہوئے تھے۔انھوں نے سکیورٹی فورسز کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔انھوں نے پہلے امام بارگاہ کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہل کاروں کی جانب دستی بم پھینکے تھے جس کے بعد وہ اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

ان میں سے ایک بمبار نے نمازیوں کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔اس دوران وہاں موجود لوگوں نے حملہ آوروں پر قابو پانے اور ان سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کی لیکن دھماکے کے بعد باقی حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی تھی۔ایک اور عینی شاہد کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت امام بارگاہ میں آٹھ سو سے زیادہ نمازی موجود تھے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ناصر خان درانی کا کہنا ہے کہ حملہ آور امام بارگاہ کے مرکزی دروازے سے اندر داخل نہیں ہوئے تھے کیونکہ وہاں سکیورٹی اہلکار تعینات تھے۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ نماز جمعہ کے وقت امام بارگاہ کے اندر سے تین دھماکوں کی آوازوں سنی گئی ہیں لیکن پولیس نے اہل تشیع کی عبادت گاہ کے اندر دھماکوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

عینی شاہدین نے دعویٰ کیا ہے کہ تین حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کے علاوہ امام بارگاہ میں تین اور خود کش حملہ آور داخل ہوئے تھے۔پشاور کے سینیر سپرنٹنڈنٹ پولیس آپریشنز (ایس ایس پی) ڈاکٹر میاں سعید نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مسجد میں تین خودکش بمبار داخل ہوئے تھے لیکن ان میں سے صرف ایک نے خود کو دھماکے سے اڑایا ہے۔ایک کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا ہے جبکہ تیسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امام بارگاہ میں صرف ایک خودکش حملہ آور نے دھماکا کیا ہے۔ایف سی کی بھاری نفری نے حملے کی اطلاع ملتے ہی امام بارگاہ پہنچ کر اس کا محاصرہ کرلیا اور انھوں نے جوابی کارروائی کی ہے۔بم ڈسپوزل اسکواڈ نے دو خود کش بمباروں کی جیکٹیں ناکارہ بنا دی ہیں۔

بم دھماکے میں اور فائرنگ سے زخمیوں اور مرنے والوں کی لاشیں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کردی گئی ہیں جہاں ان کے لواحقین کی آمد کا سلسلہ بھی جاری تھا۔اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کے ہاں جگہ کم پڑگئی ہے اور اب بعض زخمیوں کو دوسرے اسپتالوں مِں منتقل کیا جارہا ہے۔

پشاور میں یہ حملہ صوبہ سندھ کے ضلع شکار پور میں ایک امام بارگاہ میں خودکش بم دھماکے کے دو ہفتے کے بعد کیا گیا ہے۔اس بم دھماکے میں اکسٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔گذشتہ دو سال کے دوران فرقہ وارانہ بنیاد پر دہشت گردی کے کسی ایک واقعے میں یہ سب سے زیادہ جانی نقصان تھا۔