شمالی وزیرستان:فضائی حملوں میں 24 مشتبہ جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی بمباری میں چوبیس مشتبہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے دو انٹیلی جنس حکام نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ سوموار کی صبح دس بجے کے قریب شمالی وزیرستان کے علاقوں زوئی ناری، لٹکا، مذرمداخیل اور شوّال میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

ایک افسر کے بہ قول جیٹ طیاروں کی بمباری سے جنگجوؤں کے چھے ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں اور چوبیس جنگجو مارے گئے ہیں۔ان میں بعض غیرملکی بھی شامل ہیں۔فوری طور ان کی شناخت معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج نے اتوار کو بھی شمالی وزیرستان کی وادیِ شوّال میں فضائی حملے کیے تھے اور ان میں کم سے کم چالیس دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔وادیِ شوّال کا علاقہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک کمانڈر خان سید سجنا کے حامیوں کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔امریکا نے گذشتہ سال خان سید سجنا کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

پاک فضائیہ کے شمالی وزیرستان میں ان تازہ حملوں سے ایک روز قبل ہی صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک میں صوبائی وزیرداخلہ شجاع خان زادہ ایک خودکش بم حملے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔پاکستان کی سکیورٹی فورسز گذشتہ سال جون سے شمالی وزیرستان میں ٹی ٹی پی اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب کے نام سے ایک بڑی کارروائی کررہی ہیں۔

گذشتہ سوا ایک سال کے دوران اس کارروائی میں سیکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے لیکن شمالی وزیرستان کے افغان سرحد کے نزدیک واقع دشوار گذار پہاڑی علاقوں میں ابھی تک ٹی ٹی پی یا دوسرے گروپوں کے جنگجو اپنی خفیہ کمین گاہوں میں موجود ہیں اور وہ پاکستان کے مختلف شہروں میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔تاہم آپریشن ضربِ عضب کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں