.

پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں: دفتر خارجہ

"اسلام آباد شام کے مسئلے کا پرامن سیاسی حل چاہتا ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"پاکستان میں شدت پسند تنظیم داعش کا وجود برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ملک سے باہر داعش کے خلاف مشترکہ کارروائی سے متعلق کوئی پالیسی نہیں۔ پاکستان قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اللہ نے اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپریشن ضرب عضب میں اچھے برے طالبان کی تمیز ختم کر دی ہے۔ امریکا سمیت تمام ممالک نے آپریشن کی تعریف کی ہے۔

قاضی خلیل اللہ نے بتایا کہ پاکستان شام کے مسئلے کا سیاسی اور پُرامن حل چاہتا ہے۔ روس کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔ روسی صدر کو پاکستان آنے پر خوش آمدید کہیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ ہمیں بھارت کی جانب سے نئے ہتھیاروں کی خریداری پر تحفظات ہیں۔ جوہری پروگرام پر کوئی دباؤ قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ملکی دفاع کیلئے ہر اقدام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے نئے ہتھیار خریدنے سے خطے میں طاقت کا عدم توازن پیدا ہو گا۔ پاکستان کو اپنے دفاع کا پورا حق ہے۔ جوہری پروگرام پر کوئی دباؤ قبول نہیں کریں گے۔ یہ پروگرام ملکی دفاع کیلئے ہے۔

زلزلے کے حوالے بیرونی امداد لینے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے قاضی خلیل اللہ کا کہنا تھا کہ زلزلہ متاثرین کیلئے بین الاقوامی امداد لینے کا تاحال فیصلہ نہیں ہوا۔

ترجمان نے بتایا کہ اقوام متحدہ سمیت کئی ممالک نے زلزلہ متاثرین کی مدد کی پیشکش کی ہے۔ ابھی تک بین الاقوامی امداد لینے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔