.

سعودی عرب اور ایران برادر ملک ہیں: نواز شریف

وزیراعظم اور آرمی چیف کا الریاض کے بعد تہران کا دورہ ،ایرانی صدر سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور ایران برادر ملک ہیں اور پاکستان ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم کرانا چاہتا ہے۔

وہ منگل کے روز تہران میں ایرانی صدر حسن روحانی اور ان کی کابینہ کے ارکان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان نے 1997ء میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے میں مصالحانہ کردار ادا کیا تھا اور اس سے پہلے 1980ء کی دہائی میں عراق اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرانے میں بھی یہی کردار ادا کیا تھا۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے سعودی دارالحکومت الریاض میں سوموار کے روز خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی تھی اور ان سے دو طرفہ تعلقات ،علاقائی صورت حال اور سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی ختم کرانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا۔

سعودی عرب کے دورے کے بعد وزیراعظم محمد نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراه منگل کے روز تہران پہنچے تھے۔تہران کے مہر آباد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایرانی وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل حسین دهقان نے ان کا خیرمقدم کیا۔

آرمی چیف نے تہران آمد کے بعد ایرانی وزیردفاع سے ملاقات کی اور ان سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ وہ ایران کو اہم ہمسایہ ملک سمجھتا ہے اور پاکستان کے عوام ایرانی بھائیوں کے ساتھ گہری ہمدردی اور وابستگی رکھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک عالمی خطرہ ہے اور اس سے پورا خطہ ہی عدم استحکام سے دوچار ہوسکتا ہے۔اس لعنت سے نمٹنے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

ایرانی وزیردفاع نے جنرل راحیل شریف اور پاکستان کے عوام کا علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔ آرمی چیف نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی شامخانی سے بھی ملاقات کی اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدوں پر سکیورٹی تعاون بڑھانے اور ڈاکوؤں اور مسلح گروپوں کے خلاف کارروائیوں کو مربوط بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

ایرانی صدر اور ان کی کابینہ سے ملاقات کے بعد وزیراعظم نواز شریف تہران سے سوئٹزر لینڈ کے لیے روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ 20 جنوری سے شروع ہونے والے عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) میں شرکت کریں گے۔فورم 26 جنوری تک جاری رہے گا۔