.

باچا خان یونیورسٹی پر حملہ، 25 افراد جاں بحق

پروفیسرز، طالبات، گارڈز اور پولیس اہلکار جاں بحق ہونے والوں میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر چارسدہ میں ایک یونیورسٹی میں حملہ کرنے والے مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی جاری ہے۔

رکن صوبائی اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ اب تک کی معلومات کے مطابق 20 سے 25 افراد اس حملے میں جاں بحق ہوئے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے ڈائریکٹر جنرل لفٹیننٹ جنرل عاصم باوجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر کہا کہ چار حملہ آور مارے جا چکے ہیں۔ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق اب فوجی دستے عمارت کے ہر حصے کو ’کلیئر‘ کر رہے ہیں اور اس وقت فائرنگ کی کوئی آواز نہیں آ رہی ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق 4 سے 6 مسلح دہشت گرد باچا خان یونیورسٹی میں داخل ہوئی جس کے بعد وہاں سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جو معصوم طالب عملوں اور عام شہریوں کو شہید کرتے ہیں اُن کا کوئی مذہب نہیں۔ اُنھوں نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کو دہرایا کہ ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔

بتایا جاتا ہے کہ حملے کے وقت یونیورسٹی میں تین ہزار سے زائد طلبا موجود تھے جب کہ یہاں قوم پرست رہنما باچا خان کے یوم پیدائش کے سلسلے میں ایک مشاعرے کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔

16 دسمبر 2014ء کو چارسدہ سے ملحقہ خیبر پختونخواہ کے مرکزی شہر پشاور میں آرمی پبلک اسکول طالبان دہشت گردوں کے حملے میں ایک سو سے زائد بچوں سمیت 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد ملک بھر میں تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے اقدام کیے گئے تھے۔