کشمیر میں تشدد کا خاتمہ ہونا چاہیے : بورس جانسن
برطانیہ تنازعہ کشمیر میں ثالث نہیں بننا چاہتا،بھارت اور پاکستان مذاکرات کریں
برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے مقبوضہ کشمیر میں تشدد کے خاتمے کی ضرورت پر زوردیا ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ اس تنازعے کا کوئی حل وضع کرنا یا اس کے حل کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنا ان کے ملک کا کام نہیں ہے۔
انھوں نے یہ بات اسلام آباد میں وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔وہ دو روزہ دورے پر جمعرات کو اسلام آباد پہنچے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ: ''برطانیہ کا یہ دیرینہ موقف ہے کہ بھارت اور پاکستان کو کشمیرمیں صورت حال کا کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق کوئی حل تلاش کرنا چاہیے۔ ہمیں یقیناً کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب رونما ہونے والے حالیہ واقعات پر تشویش لاحق ہے۔ہم تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں''۔
انھوں نے پاکستان اور بھارت پر زوردیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ضبط وتحمل کا مظاہرہ کریں اور بات چیت شروع کریں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ تنازعہ حل ہوچکا ہوتا تو پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک اپنی زبردست افرادی قوت سے زیادہ بہتر انداز میں فائدہ اٹھا سکتے تھے۔
اس موقع پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے برطانیہ کی جانب سے مختلف شعبوں اور خاص طور پر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں مہیا کی جانے والی امداد کو سراہا۔انھوں نے کہا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کو 2017ء میں پاکستان کے دورے کی دعوت دی ہے اور ہم ان کے اس دورے کے شدت سے منتظر ہیں۔
قبل ازیں بورس جانسن نے دفتر خارجہ میں سرتاج عزیز سے ملاقات کی اور ان سے دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں سمیت اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ''ان کا ملک پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کو تسلیم کرتا ہے اور وہ صورت حال کو مکمل طور پر سمجھتا ہے''۔
برطانوی وزیر خارجہ نے وزیراعظم میاں نواز شریف سے بھی ملاقات کی ہے۔ وزیراعظم نے بورس جانسن کا پاکستان کے پہلے دورے پر آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات اور بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ''پاکستان بھارت کے ساتھ تمام دو طرفہ تنازعات پر سنجیدہ ،پائیدار اور نتیجہ خیز بات چیت چاہتا ہے۔تصفیہ طلب جموں وکشمیر کا تنازع خطے میں سکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
میاں نواز شریف نے کہا کہ بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہیں۔انھوں نے برطانیہ پر خاص طور پر اور عالمی برادری پر بالعموم زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں صورت حال کی سنگینی کا نوٹس لیں اور بھارت پر انسانی حقوق کے احترام اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور کردہ قرار دادوں پر عمل درآمد کرائیں۔