لاہور : مال روڈ پر بم دھماکا، ڈی آئی جی سمیت 13 جاں بحق

ٹی ٹی پی کے جماعت الاحرار دھڑے نے خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کی مصروف شاہراہ مال پر ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران میں خودکش بم دھماکے میں تین سینیر پولیس افسروں سمیت تیرہ افراد جاں بحق اور پچاسی زخمی ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حملہ آور بمبار نے سوموار کی شام مال روڈ پر واقع پنجاب اسمبلی کی عمارت کے سامنے مظاہرے کے شرکاء کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑایا ہے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک دھڑے جماعت الاحرار کے ترجمان نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

صوبہ پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے سربراہ ڈاکٹر محمد اقبال نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ خودکش بمبار پیدل تھا۔ اس نے پولیس افسروں کی گاڑی کے نزدیک دھماکا کیا ہے جس کے نتیجے میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل ( ڈی آئی جی) ٹریفک پولیس لاہور ریٹائرڈ کپتان احمد مبین ، پنجاب پولیس کے سینیر سپرنٹینڈنٹ (ایس ایس پی) زاہد گوندل اور ڈی ایس پی پرویز بٹ جاں بحق ہوئے ہیں۔انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے ان تین افسروں کے علاوہ تین اور اہلکاروں کے بم حملے میں جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔

ریسکیو 1122 نے بم دھماکے میں انہتر افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ بم دھماکے کے فوری بعد امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں۔زیادہ تر زخمیوں کو سر گنگا رام اسپتال اور میو اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے اور لاہور کے تمام اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے۔

مال روڈ پر واقع چیئرنگ کراس میں کیمسٹوں اور ادویہ سازوں کا ایک گروپ پنجاب اسمبلی کے سامنے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کررہا تھا۔وہ ادویہ کی غیر قانونی فروخت پر حکومت کے کریک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔اس موقع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بھاری نفری موجود تھی۔

جاں بحق ڈی آئی جی احمد مبین نے مظاہرین کے ساتھ بم دھماکے سے چندے قبل بات چیت کی تھی اور انھیں پرامن طور پر منتشر ہونے اور احتجاج ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ بعض صحافیوں کے مطابق مظاہرے میں کم سے کم چار سو افراد شریک تھے۔

بم دھماکے کے بعد پاکستان آرمی کے جوانوں اور رینجرز کی بھاری نفری بھی پنجاب اسمبلی کے سامنے پہنچ گئی ہے اور سکیورٹی فورسز نے تمام علاقے کا گھیراؤ کر لیا ہے اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیا ہے۔ حکام نے بم دھماکے کی ابتدائی تحقیقات شروع کردی ہے۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے اس تباہ کن بم حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی۔انھوں نے فرائض کی انجام دہی میں جانیں قربان کرنے والے سکیورٹی افسروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاہور کے مقامی فوجی کمانڈروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو سول حکام کو تمام ضروری معاونت مہیا کرنے اور بم دھماکے میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی ( نیکٹا) نے 7 فروری کو ایک نوٹی فیکشن کے ذریعے لاہور میں دہشت گردی کے ممکنہ حملے کے بارے میں خبردار کیا تھا۔نیکٹا نے اس سلسلے میں پنجاب کے ہوم سیکریٹری ،صوبائی پولیس کے سربراہ اور ڈائریکٹر جنرل پنجاب رینجرز کو ایک مراسلہ بھیجا تھا اور ہدایت کی تھی کہ تمام اہم تنصیبات ،سرکاری عمارتوں ،اسپتالوں اور اسکولوں کی کڑی نگرانی کی جائے اور کسی بھی ناخوش گوار واقعے سے بچنے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کیے جائیں۔

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ اس الرٹ کے موصول ہونے کے بعد سکیورٹی کو بڑھانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے گئے تھے اور دھماکے کی جگہ پر پہلے ہی سکیورٹی سخت ہوتی تھی۔

لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے بم دھماکے کے بعد ریسکیو1122 اور پولیس کے اہلکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے بم دھماکے کے بعد ریسکیو1122 اور پولیس کے اہلکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
 بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والے ڈپٹی انسپکٹر جنرل ( ڈی آئی جی) ٹریفک پولیس لاہور ریٹائرڈ کپتان احمد مبین
بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والے ڈپٹی انسپکٹر جنرل ( ڈی آئی جی) ٹریفک پولیس لاہور ریٹائرڈ کپتان احمد مبین
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں