ملالہ یوسفزئی کے آفت زدہ دیس میں سعودی امداد سے ڈھانچے کی تعمیر
پاکستان کے شمال مغرب میں واقع وادیِ سوات کے مکین اپنے علاقے میں ڈھانچے کی از سر نو تعمیر کے لیے گراں قدر امداد دینے پر سعودی قیادت کے شکرگزار ہیں۔
نوبل امن انعام پانے والی کم عمر ملالہ یوسف زئی کا تعلق بھی صوبہ خیبر پختونخوا کے اسی ضلع سوات سے ہے۔اس علاقے کا ڈھانچا طالبان جنگجوؤں کی تخریبی سرگرمیوں ،ان کے خلاف جنگ اور قدرتی آفات کے نتیجے میں تباہ ہو کر رہ گیا تھا۔
سعودی ترقیاتی فنڈ (ایس ڈی ایف) کی جانب سے مہیا کردہ فنڈز سے سوات میں بنیادی کمیونٹی انفرااسٹرکچر کی 639 اسکیموں کو مکمل کیا گیا ہے اور ان سے اب اس ضلع کے آٹھ لاکھ سے زیادہ مکین مستفید ہورہے ہیں۔
ایس ایف ڈی نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام ( یو این ڈی پی) کو ایک کروڑ سولہ لاکھ سڑسٹھ ہزار امریکی ڈالرز کی رقم دی تھی۔اس رقم سے ضلع کے چھے علاقوں بابو زئی ،چارباغ ،کابل ،خوزہ خیلہ ،مٹہ سبوجنی اور مٹہ خارارائی میں رابطہ سڑکیں ،گلیاں ،چھوٹے پل اور آب رسانی اور نکاسیِ آب کی اسکیمیں مکمل کی گئی ہیں۔
سوات میں قریباً ایک عشرہ قبل دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بعد میں سنہ 2010ء میں سیلاب کے نتیجے میں ڈھانچا تباہ ہوکر رہ گیا تھا۔اس سیلاب کے نتیجے میں پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں قریباً دو ہزار افراد جاں بحق اور ساٹھ لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوگئے تھے۔ وادیِ سوات سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی تھی۔
بابوزئی تحصیل سے تعلق رکھنے والے ایک ساٹھ سالہ کاشت کار واحد زادہ نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے ان کے گاؤں اور نزدیک واقع شہر کو ملانے والی واحد شاہراہ بہ گئی تھی اور ہمارے گاؤں کے ہزاروں مکینوں کا شہر سے رابطہ کٹ کر رہ گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ میرے گاؤں کے بیشتر مکینوں کا زراعت پر انحصار ہے۔کوئی سڑک نہ ہونے کی وجہ سے ہم اپنی پیداواری اجناس کو شہر میں نہیں لے جاسکتے تھے۔ہماری اجناس گھروں ہی میں پڑے پڑے خراب ہوگئی تھیں کیونکہ ہم انھیں بروقت مارکیٹ میں نہیں لے جاسکے تھے۔
واحد زادہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے بچے اسکولوں میں نہیں جاسکتے تھے اور ہم بیماروں کو اسپتالوں میں نہیں پہنچا سکتے تھے۔ ہم باقی دنیا سے مکمل طور پر کٹ کر رہ گئے تھے۔ان کے عزیز کو بروقت اسپتال نہیں پہنچایا جاسکا تھا اور اس وجہ سے اس کا انتقال ہوگیا تھا۔
تحصیل مٹہ سبوجنی سے تعلق رکھنے والی ایک سولہ سالہ طالبہ رضیہ بی بی نے سڑک ٹوٹ پھوٹ جانے کے بعد اپنی تعلیمی ادھوری چھوڑ دی تھی کیونکہ وہ دشوار گذار پہاڑی راستوں سے روزانہ پیدل اسکول نہیں جاسکتی تھی۔اس کا کہنا تھا کہ ’’میں یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ صرف سڑک اور پلوں کے ٹوٹ جانے سے ہماری زندگیاں مکمل طور پر تبدیل ہوکر رہ جائیں گی‘‘۔
سعودی امداد سے زیر تکمیل انفرااسٹرکچر کے منصوبوں کی نگرانی پر مامور ایک انجینیر محمد عمران نے بتایا ہے کہ ان اسکیموں نے درحقیقت وادیِ سوات میں رہنے والے عام لوگوں کی زندگیوں کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ لوگوں کی آمد ورفت کے لیے پلوں اور سڑکوں کی تعمیر بھی اتنی اہمیت کی حامل ہے جتنی کہ بڑی شاہراہوں کو اہمیت حاصل ہے۔یہ غیر اہم سمجھی جانے والی شاہراہیں اور پل دراصل عام آدمی کو ترقی اور استحکام کی راہداریوں سے جوڑتی ہیں۔
عمران کے بہ قول وادیِ سوات کے عوام اپنے علاقے میں ڈھانچے کی تعمیر اور دنیا سے مواصلاتی رابطہ بحال ہونے پر سعودی عرب کے بہت شکر گزار ہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ ایس ایف ڈی کے حکام منصوبوں پر پیش رفت کی نگرانی کے لیے علاقے میں آتے جاتے رہتے ہیں۔ان منصوبوں کا 2011ء میں آغاز ہوا تھا اور وہ اس سال کے آخر تک پایہ تکمیل کو پہنچنے والے ہیں۔
عمران کا کہنا تھا کہ ’’ یہ صرف رقم کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک طرح سے بحران کے دور میں ہمدردی کا اظہار ہے اور اسی سے فرق کا پتا چلتا ہے‘‘۔
کاشتکار واحد زادہ کا کہنا تھا کہ ’’میں سعودی شاہ کو دونوں ہاتھوں سے سلام پیش کرتا ہوں۔انھوں نے ہمارے اپنے لوگوں سے زیادہ ہماری مدد کی ہے۔سوات کے ہزاروں لوگ حقیقی بھائی چارے کا حق ادا کرنے پر برادر سعودی مملکت کے ممنون احسان ہیں‘‘۔