.

حکومت کو مذہبی جماعتوں کا دھرنا ختم کرانے کے لیے مزید تین دن کی مہلت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی ایک اعلیٰ عدالت نے حکومت کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راول پنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹر چینج میں مذہبی جماعتوں کے احتجاجی دھرنے کو ختم کرانے کے لیے مزید تین دن کی مہلت دے دی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے سوموار کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ انھوں نے عدالت سے یہ استدعا کی ہے کہ دھرنا ختم کرانے کے لیے طاقت کے استعمال سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ عدالت نے اب دھرنے کے خاتمے کی ڈیڈ لائن 23 نومبر مقرر کی ہے۔ہم عدالت کے اس حکم پر عمل درآمد کریں گے۔اس سے پہلے گذشتہ جمعہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے حکومت کو کسی بھی طریقے سے ہفتے کے روز دھرنا ختم کرانے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ اس سلسلے میں فرنٹیئر کانسٹیبلری اور رینجرز کی بھی ضرورت پڑنے پر مدد لی جاسکتی ہے۔

اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو تحریکِ لبیک یارسول اللہ کی احتجاجی ریلی ختم کرانے کے لیے دو مرتبہ مہلت دی تھی لیکن اس تحریک کے منتظمین نے اس پر کان نہیں دھرے اور اپنا احتجاجی دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ حکومت اس احتجاج کو پُر امن طریقے سے ختم کرانے کے لیے اب مذہبی جماعتوں سےمذاکرات کررہی ہے۔

دو مذہبی جماعتوں تحریک لبیک یارسول اللہ اور سنی تحریک نے گذشتہ دو ہفتوں سے فیض آباد چوک میں دھرنا دے رکھا ہے اور وہ وزیر قانون زاہد حامد کو حال ہی میں پارلیمان میں انتخابات سے متعلق منظور کردہ بل میں منتخب نمائندوں کے حلف نامےسے متعلق عبارت میں ترمیم پر ہٹانے کا مطالبہ کررہی ہیں۔

وہ الیکشن ایکٹ 2017ء میں ختم نبوت سے متعلق حلف کی عبارت کو تبدیل کرنے کے تمام ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہی ہیں۔حکومت نے اس تبدیلی کو ایک کلریکل غلطی قرار دیا تھا اور گذشتہ ہفتے اس کو ایک ترمیمی بل کے ذریعے درست کر دیا گیا ہے اور پرانے حلف کو بحال کردیا گیا ہے۔

احتجاجی دھرنے کی وجہ سے دونوں شہروں میں روزمرہ معمولات ِ زندگی بری طرح متاثر ہورہے ہیں اور شہریوں کو راول پنڈی سے اسلام آباد آنے اور واپس جانے کے لیے لمبا فاصلہ کاٹنا پڑتا ہے۔اس کے علاوہ بعض شاہراہیں بند ہونے کی وجہ سے دوسری شاہراہوں میں ٹریفک کا رش بڑھ گیا ہے اور محض پندرہ بیس منٹ کا فاصلہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔