امریکا اسامہ بن لادن تک رسائی ممکن بنانے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رہا کرالے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

امریکا نے پاکستانی حکام سے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن تک سی آئی اے کی رسائی ممکن بنانے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کے لیے اعلیٰ سطح پر رابطہ قائم کیا ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی اس وقت جیل میں قید ہیں ۔پاکستان کی ایک عدالت نے انھیں دہشت گردوں سے تعلق کے الزام میں قصور وار قرار دے کر 33 سال قید کی سزا سنائی تھی۔انھوں نے اس الزام کی تردید کی تھی اور امریکا نے ڈاکٹر آفریدی کے خلاف فردِ جرم کو غیر منصفانہ قرار دیا تھا۔

اسلام آباد میں اقتدار کے ایوانوں میں گذشتہ کچھ عرصے سے یہ چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو جلد رہا کیا جاسکتا ہے۔اس ضمن میں امریکا اور پاکستان کے درمیان روابط کی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے بھی تصدیق کی ہے۔

انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان اور امریکا آفریدی سے متعلق معاملے پر رابطے میں ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان اس ضمن میں اپریل کے دوسرے ہفتے میں آخری رابطہ ہو ا تھا‘‘۔

اس ذریعے کے مطابق پاکستان اور امریکا اس وقت قیدیوں کے تبادلے سے متعلق ایک سمجھوتے پر بھی بات چیت کررہے ہیں۔یہ تمام کوششیں دراصل شکیل آفریدی کی پاکستان کو انتہائی مطلوب ملا فضل اللہ کے بدلے میں رہائی کے لیے کی جارہی ہیں۔

تاہم اسی ماہ کے اوائل میں پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے دونوں ممالک کے درمیان ایسی کسی ڈیل پر بات چیت سے لاعلمی ظاہر کی تھی۔پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے حال ہی میں کہا ہے کہ اسلام آباد کو ایک وسیع تر سمجھوتے کے تحت ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رہا کردینا چاہیے۔

انھوں نے کہا:’’ اگر میں آج صدر ہوتا تو میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو کچھ لو اور کچھ دو اصول کے تحت رہا کرچکا ہوتا ‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رہا کرکے امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنا سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ تو امریکا کو بھی معلوم ہے کہ ملّا فضل اللہ افغانستان میں ہے ،پاکستان اس کے ساتھ شکیل آفریدی کا تبادلہ کرسکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے ایک سرکردہ سیاست دان اور ایک سابق فوجی صدر جنرل ضیاء الحق کے صاحب زادے اعجاز الحق نے حکومت کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رہا نہ کرے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ شکیل آفریدی نے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی تھی ،ہم اسے کیسے رہا کرسکتے ہیں‘‘۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گذشتہ ہفتے کانگریس کی ایک کمیٹی کے روبرو بیان دیتے ہوئے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی پاکستان میں قید کا معاملہ اٹھایا تھا ۔امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق انھوں نے یہ کہا تھا کہ وہ اس کی رہائی کو ممکن بنا لیں گے۔

انھوں نے کہا:’’پلیز نوٹ کرلیں ، یہ معاملہ میرے دل میں ہے ،ہم ایسا کرسکتے ہیں ۔ہم اس رہائی کو ممکن بنا سکتے ہیں‘‘۔ان کے ان الفاظ کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خاندان نے اپنے لیے تازہ ہوا کے جھونکے سے تعبیر کیا ہے۔

ان کے بڑے بھائی جمیل آفریدی نے مائیک پومپیو کے اس بیان پر کسی تبصرے سے انکار کیا ہے۔تاہم ان کے خاندان نے آف دا ریکارڈ گفتگو میں کہا کہ وہ ان کی رہائی کےبارے میں پُر امید ہیں ۔

بعض پاکستانی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ پاکستان شکیل آفریدی کی رہائی کے معاملے کو امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ان میں سے ایک عہدہ دار کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت تعلقات انتہائی پست سطح پر ہیں اور ان میں سرد مہری پائی جارہی ہے۔دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے لیے شکیل آفریدی کو رہا کردیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے پاکستان کے شمالی شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا سراغ لگانے کے لیے ایک جعلی ویکسی نیشن مہم چلائی تھی اور ان کی ٹیم نے اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں واقع کمپاؤنڈ میں موجودگی کا سراغ لگانے کے لیے ڈی این اے کے نمونے لیے تھے اور ان کی تصدیق کے بعد سی آئی اے نے خفیہ چھاپا مار کارروائی کی تھی جس میں اسامہ بن لادن اپنے بعض ساتھیوں سمیت مارے گئے تھے۔

پاکستا ن اور بھارت کے سابق انٹیلی جنس سربراہوں کی مشترکہ لکھی کتاب ’’دا سپائی کرانیکلز‘‘ حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے۔اس میں منجملہ دیگر انکشافات کے ایک یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے سی آئی اے کی کارروائی سے چند روز قبل اس وقت پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے امریکا کے ایک اعلیٰ عہدہ دار سے ایک بحری جہاز پر ملاقات کی تھی۔

اگر یہ ملاقات فی الواقع ہوئی تھی تو یہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا تھا،اس حوالے سے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔کتاب کے شریک مصنف اور بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دولت لکھتے ہیں:’’ بظاہر یہ ملاقات بیک وقت رونما ہونے والااتفاقی واقعہ لگتی ہے کیونکہ اس کے صرف دو روز بعد ہی اسامہ بن لادن کو جالیا گیا تھا‘‘۔

اے ایس دولت کے ساتھ پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی اس کتاب کے شریک مصنف ہیں۔جنر ل درانی کے مطابق امریکیوں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی سے تعاون کا کہنا تھا۔’’انھوں ( امریکیوں ) نے کہا کہ گیند سے کھیلیے‘‘۔اسد درانی کے بہ قول جنرل کیانی نے یہ جواب دیا: ’’ہم اس کو اس انداز میں کریں گے اور ہمیں اس کے بدلے میں کیا ملے گا‘‘۔

اس کتاب میں بعض ہوشربا انکشاف کیے گئے ہیں اور یہ کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو صرف ڈاکٹر شکیل آفریدی سے ہی اسامہ بن لادن کا اتا پتا نہیں ملا تھا بلکہ پاکستان کے ایک ریٹائرڈ انٹیلی جنس افسر نے بھی امریکیوں کو اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے میں مدد دی تھی ۔اس پاکستانی افسر کو پانچ کروڑ ڈالرز انعام کے طور پر دیے گئے تھے۔

جنرل اسد درانی کا کہنا تھا کہ ’’ مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک ریٹائرڈ پاکستانی انٹیلی جنس افسر نے امریکیوں کو اس بارے میں بتایا تھا۔اس نے پانچ کروڑ ڈالرز کی رقم کیسے حاصل کی تھی،اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا لیکن وہ اس کے بعد سے پاکستان سے لاپتا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں