جسٹس طاہرہ صفدر بلوچستان ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس نامزد
چیف جسٹس پاکستان، جسٹس میاں ثاقب نثار نے جسٹس طاہرہ صفدر کو بلوچستان ہائی کورٹ کی چیف جسٹس نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ پاکستان کی کسی بھی عدالتِ عالیہ کی پہلی خاتون چیف جج ہوں گی۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے لاہور میں سوموار کو عدالت عالیہ لاہور کی ریٹائرڈ جج فخر النساء کھوکھر کی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب میں جسٹس طاہر ہ صفدر کو اس عہدے کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ان سے حال ہی میں جسٹس فخر النساء کھوکھر نے یہ شکوہ کیا تھا کہ ان سے عورت ہونے کے ناتے ایک ناانصافی کی گئی تھی اور انھیں سینیر ہونے کے باوجود عدالت عالیہ لاہور کی چیف جسٹس مقرر نہیں کیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا :’’آج میں اس غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں کیونکہ یہ کسی ایک فرد سے نہیں بلکہ تمام خواتین سے ناانصافی کی گئی تھی اور میں اس کے ازالے کے طور پر جسٹس طاہرہ صفدر کو پاکستان کی کسی ہائی کورٹ کی پہلی چیف جسٹس نامزد کرنے کا اعلان کرتا ہوں‘‘۔
جسٹس طاہرہ صفدر بلوچستان ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس محمد نو ر مسکان زئی کی 31 اگست کو ریٹائرمنٹ پر اپنا نیا عہدہ سنبھالیں گی۔
عدالتِ عالیہ بلوچستان کی ویب گاہ کے مطابق جسٹس طاہرہ صفدر 5 اکتوبر 1957ء کو کوئٹہ میں پیدا ہوئی تھیں ۔ وہ صوبے کے معروف وکیل سید امتیاز حسین باقری حنفی کی بیٹی ہیں ۔وہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے مقابلے کے امتحان کے ذریعے 1982ء میں سول جج منتخب ہوئی تھیں اور وہ صوبے میں سول جج بننے والی پہلی خاتون تھیں ۔
انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کنٹونمنٹ پبلک اسکول کوئٹہ سے حاصل کی تھی اور گورنمنٹ کالج برائے طالبات کوئٹہ سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی تھی۔بعد ازاں انھوں نے بلوچستان یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کیا اور یونیورسٹی لا کالج کوئٹہ سے 1980ء میں قانون کی ڈگری حاصل کی تھی ۔
وہ پانچ سال تک سول جج کی حیثیت سے خدمات انجام دیتی رہی تھیں۔انھیں 29 جون 1987ء کو سینیر سول جج مقرر کیا گیا تھا اور 27 فروری 1991ء کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے عہدے پر ترقی دے دی گئی تھی۔یکم مارچ 1996ء کو انھیں ترقی دے کر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بنا دیا گیا تھا۔
جسٹس طاہرہ صفدر کو 22 اکتوبر 1998ء کو بلوچستان سروسز ٹرائبیونل کی رکن مقرر کیا گیا تھا۔وہ 10 جولائی 2009ء کو اس ٹرائبیونل کی چئیرپرسن مقرر ہونے تک اسی حیثیت میں کام کرتی رہی تھیں۔7 ستمبر 2009ء کو انھیں بلوچستان ہائی کورٹ کی ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا تھا اور 11 مئی 2011ء کو انھیں مستقل جج بنا دیا گیا تھا۔
اس وقت وہ سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی تین ججوں پر مشتمل خصوصی عدالت کی بھی رکن ہیں۔پرویز مشرف کے خلاف 3 نومبر 2007ء کو ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ اور آئین کو معطل کرنے کے الزام میں سنگین غداری کا مقدمہ چلایا جارہا ہے لیکن اس کی باقاعدگی سے سماعت نہیں ہورہی ہے۔