مائیک پومپیو کی عمران خان سے ازسر ِنو پاک امریکاتعلقات استوار کرنے پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور چئیرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ نے اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنے اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

پاکستان میں عمران خان کی قیادت میں نئی منتخب حکومت کے قیام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ا علیٰ سطح پر یہ پہلا براہ راست رابطہ ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں افغانستان میں جاری جنگ کے مسئلے پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔ مائیک پومپیو کی آمد سے ایک روز قبل ہی امریکی محکمہ دفاع نے یہ اعلان کیا تھا کہ اس نے پاکستان کو فوجی امداد کی شکل میں تیس کروڑ ڈالرز کی رقم نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

عمران خان سے ملاقات کے بعد مائیک پومپیو نے کہا کہ وہ قبل ازیں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے اپنی ملاقات سے بہت مطمئن ہوئے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے دفتر خارجہ میں اس بات چیت کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’’ امریکی وفد کے سامنے پاکستان کا موقف بڑے ذمے دارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔آپ بدن بولی سے اس کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ ملاقات دوستانہ ماحول میں ہوئی ہے۔ہم نے ان کی خواہشات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور ان کے سامنے اپنی تشویش اور تحفظات کو پیش کیا ہے‘‘۔

’’ میں نے انھیں بتایا ہے کہ اگر آپ پاکستان کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں ، تو اس کی بنیاد اعتماد ، کھلی اور دوٹوک بات چیت میں پنہاں ہے۔جب تک ہم طرفین کی تشویش کو دور نہیں کردیتے ،اس وقت تک کوئی پیش رفت ممکن نہیں‘‘۔ ان کا کہنا تھا ۔

انھوں نے اعلان کیا کہ ’’ مجھے سیکریٹری پومپیو نے امریکا کے دورے کی دعوت دی ہے ۔میں جب نیویارک میں اقوام متحدہ کی کانفرنس میں شرکت کے لیے جاؤں گا تو میں ان کے ساتھ مزید بات کرنا چاہوں گا‘‘۔

امریکی وفد کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ ’’ اس میں ہم نے مل بیٹھ کر ( دوطرفہ تعلقات پر) تبادلہ خیال کیا ہے۔ماضی میں وہ آتے تھے۔ وہ وزیراعظم سے ملاقات کرتے تھے اور پھر جی ایچ کیو (جنرل ہیڈ کوارٹر راول پنڈی) چلے جاتے تھے۔آج کی ملاقات میں ہم نے واضح پیغام دیا ہے کہ ہم ایک صفحے پر ہیں‘‘۔

ان کا اشارہ امریکی وفد سے ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی موجودگی کی جانب تھا۔ان کا کہنا تھا: ’’ برف پگھل چکی ہے۔آج ہم نے محسوس کیا ہے کہ ہم نے از سرنو اپنے تعلقات ا ستوار کرنے کے لیے ایک سازگار ماحول بنا دیا ہے۔دوطرفہ تعلقات میں موجود اعتماد کی کمی کو ختم کردیا گیا ہے اور یہ ایک بہت ہی مثبت پیش رفت ہے‘‘۔

امریکی وزیر خارجہ اور جنرل ڈنفورڈ بدھ کی دوپہر ایک بجے کے قریب مختصر دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے۔ وہ وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ قریشی سے الگ الگ ملاقات کے بعد پڑوسی ملک بھارت روانہ ہوگئے ہیں جہاں دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر بات چیت متوقع ہے۔ مبصرین کے مطابق وہ بھارت پر ایران سے تیل اور روس سے میزائل دفاعی نظام خرید نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں