پاکستان مسلم لیگ نواز پنجاب کے صدررانا ثناءاللہ ’نامعلوم‘ منشیات رکھنے کے الزام میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستان مسلم لیگ نواز ( پی ایم ایل –این) پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ کو انسدادِ منشیات فورس ( اے این ایف) کی لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک ٹیم نے گرفتار کر لیا ہے۔انھیں آبائی شہر فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے سکھے کی منڈی کے قریب موٹر وے سے حراست میں لیا گیا ہے ۔

اے این ایف نے ان پر کوئی ’نامعلوم‘ منشیات کی ’ نامعلوم‘ مقدار رکھنے کا الزام عاید کیا ہے۔اس فورس کے ترجمان ریاض سومرو نے کہا ہے کہ حزبِ اختلاف کی جماعت کے سینیر رہ نما کی کار سے منشیات برآمد ہوئی تھی۔اس منشیات کی قسم اور اس کی مقدار کا ابھی جائزہ لیا جارہا ہے۔

ترجمان یہ بتانے سے قاصر رہے ہیں کہ رانا ثناء سے منشیات کی کونسی قسم برآمد ہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں اے این ایف لاہور سے معلومات کے حصول میں مشکلات کاسامنا ہے مگر انسدادِ منشیات فورس کسی فرد کو کسی وجہ کے بغیر گرفتار نہیں کرتی ہے‘‘۔

ترجمان نے کہا کہ ’’ فورس کے کمانڈر بریگیڈئیر خالد محمود خود تحقیقات کی نگرانی کررہے ہیں اور رانا ثناء کو اے این ایف کے لاہور میں واقع پولیس اسٹیشن ایک میں منتقل کردیا گیا ہے۔ تحقیقات کی تکمیل کے بعد ان سے برآمد ہونےو الی منشیات کا اعلان کیا جائے گا‘‘۔

حزب اختلاف کےشعلہ بیان مقرر رانا ثناء اللہ صوبہ پنجاب کے سابق وزیر قانون رہے تھے ۔انھیں اسی سال مئی میں پی ایم ایل –این پنجاب کا صدر مقرر کیا گیا تھا۔اس جماعت کے مرکزی صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے رانا ثناء اللہ کی کسی الزام کے بغیر گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔انھوں نے گرفتاری کو لاقانونیت اور سیاسی انتقام کی بدترین مثال قرار دیا ہے اور انھیں فوری طور پر کسی عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے حکومت پر سیاسی مخالفین کے خلاف ریاستی اداروں کو استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور رانا ثناء کی گرفتاری کو اس کی ایک اور بدترین مثال ہے۔پی ایم ایل – این کی نائب صدر مریم نواز شریف نے وزیراعظم عمران خان کو ان کی گرفتاری کا مورد الزام ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ اس میں وزیراعظم کا براہ راست ہاتھ کارفرما ہے۔

حزب اختلاف کی ایک اور بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور اس کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔انھوں نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ’’ ثناء اللہ ماضی میں پی پی پی کے سخت ناقد رہے ہیں اور اب وہ موجودہ نظام کے سب سے بڑے ناقد ہیں۔ان کی گرفتاری سے حکومت کی کم زوری اور مایوسی ظاہر ہوتی ہے۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size