ضمانت کے باوجود نواز شریف کی رہائی کیونکر ممکن نہ ہو سکی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک پاکستانی عدالت نے ملک کے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے بانی رہنما صحت کی ناسازی کے سبب ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

اس وقت 69 سالہ نواز شریف تین بار پاکستان کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ گزشتہ برس بدعنوانی کے الزامات کے تحت عدالت نے انہیں سات برس قید کی سزا سنائی تھی۔ نواز شریف ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور اسے اپنے خلاف سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔

انہیں پیر 21 اکتوبر کو طبیعت کی خرابی کے سبب جیل سے لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ان کی جماعت کی طرف سے اپنے رہنما کی صحت کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔

نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالتی فیصلے کے بعد خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ''ہم نے ان کی صحت کی صورتحال کے تناظر میں عدالت سے ان کی ضمانت پر رہائی کی درخواست کی تھی کیونکہ ان کی صحت بگڑ رہی تھی اور انہیں بہتر علاج کی ضرورت ہے۔‘‘

پاکستانی میڈیا کے مطابق ایک اور مقدمے کے سلسلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی نواز شریف کی ضمانت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ یہ درخواست بھی شہباز شریف نے دائر کی ہے۔ اگر وہ درخواست بھی قبول ہو گئی تو نواز شریف کی ضمانت پر رہائی ممکن ہو سکے گی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس درخواست پر مزید سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی ہے.

قانونی ماہرین اور سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ ملک کی عدالت عالیہ نے اپنے ایک فیصلے میں جو معیارات مقرر کر رکھے ہیں، انہیں دیکھتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے نواز شریف کی ضمانت کا امکان کم نظر آتا ہے، تاہم لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ ضمانت پر نواز شریف کی سیاسی جماعت سوشل میڈیا پر اسے اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں