عدالتِ عالیہ لاہورسے مریم نواز کی چودھری شوگرملز کیس میں ضمانت منظور، رہائی کا حکم
عدالتِ عالیہ لاہور نے پاکستان مسلم لیگ نواز(پی ایم ایل۔ن) کی نائب صدرمریم نواز کی ضمانت منظور کر لی ہے اور ان کی رہائی کا حکم دیا ہے۔انھیں آٹھ اگست کو چودھری شوگرملز کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مریم نواز کی ضمانت کے لیے دائر درخواست کی سماعت کی اور سوموار کو اپنا فیصلہ سنایا ہے۔اس موقع پر عدالت میں مریم نواز اور قومی احتساب بیورو( نیب) کے قانونی نمایندے بھی موجود تھے۔
عدالت نے مریم نواز کو جیل سے رہائی کے لیے ایک ، ایک کروڑ روپے کے دو ضمانتی مچلکے اور سات کروڑ روپےکی اضافی رقم جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔انھیں اپنے پاسپورٹ سے دستبرداری کا بھی حکم دیا ہے تاکہ وہ بیرون ملک نہ جاسکیں۔
عدالت عالیہ لاہور کے باہر پی ایم ایل ۔ن کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی ۔انھوں نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس پر بے پایاں خوشی کا اظہار کیا ہے۔ جماعت کے صدر میاں شہباز شریف نے بھی ایک بیان میں عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اورلیگی کارکنان سے اپیل کی ہے کہ وہ مریم نواز کی رہائی کا جشن نہیں منائیں بلکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت یابی کی دعا کریں۔
مریم نواز نے 30 ستمبر کو بعد از گرفتاری ضمانت کے لیے عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی تھی ۔عدالت نے درخواست گزار اور نیب کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد 31 اکتوبر کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔مسلم لیگ کی نائب صدر کو اس کیس میں منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
انھوں نے اپنے والد میاں نواز شریف کی اچانک طبیعت بگڑ جانے کے بعد 24 اکتوبر کو بنیادی حقوق اور انسانی وجوہ کی بنا پر فوری ضمانت کے لیے متفرق درخواستیں دائر کی تھیں۔ 29 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کے والد کو العزیزیہ کیس میں سنائی گئی سزا آٹھ ہفتے کے لیے معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔
واضح رہے کہ مریم نواز اور ان کے چچازاد بھائی یوسف عباس کو نیب نے آٹھ اگست کو چودھری شوگر ملز کیس میں گرفتار کیا تھا اور 25 ستمبر کو لاہور میں ایک احتساب عدالت نے انھیں جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
نیب نے ان پر الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے میاں نواز شریف کے 1992۔93 میں بہ طور وزیر اعظم پہلے دور حکومت میں بعض غیر ملکیوں کی معاونت سے منی لانڈرنگ کی تھی اور پھر اس رقم سے چودھری شوگر ملز میں بھاری سرمایہ کاری کی تھی۔مریم نواز کو گذشتہ سال ایک احتساب عدالت نے ایون فیلڈ کیس میں قصور وار قرار دے کر سات سال قید کی سزا سنائی تھی لیکن اسلام ہائی کورٹ نے بعد میں ان کی یہ سزا معطل کردی تھی اور ان کی اس کے خلاف دائرکردہ اپیل سماعت کے لیے منظور کر لی تھی۔