آرمی چیف کا مقدمہ لڑنے کے لیے پاکستانی وزیر قانون نے استعفا دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے مطابق بیرسٹر فروغ نسیم بطور وکیل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کے معاملے پر سپریم کورٹ میں ان کا مقدمہ لڑیں گے۔

دوسری جانب حکومتِ پاکستان نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع سے متعلق 19 اگست کو جاری کیا گیا نوٹی فکیشن واپس لے لیا ہے۔ حکومت نے وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے جاری کیے نوٹی فکیشن کو واپس لے کر نئی سمری صدر مملکت کو ارسال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

منگل کو وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد وفاقی وزرا شیخ رشید احمد اور شفقت محمود نے بتایا کہ ڈیفنس سروسز رولز کے آرٹیکل 255 میں ترمیم کر دی گئی ہے۔ شفقت محمود نے بتایا کہ ڈیفنس سروسز رولز کے آرٹیکل 255 میں لفط 'ایکسٹینشن' کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے دوران پریس کانفرنس انکشاف کیا کہ وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ وہ بطور وکیل سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل انور منصور خان کی معاونت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ وزیر اعظم فروغ نسیم سے ناراض ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے منگل کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کا نوٹی فکیشن معطل کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اعتراض کیا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا طریقہ کار درست نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں