.

فلسطین یکجہتی ریلی کے بعد چمن میں دھماکا، چھ افراد جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں یکجہتی فسلطین ریلی کے اختتام پر ایک بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد جان بحق اور 14 زخمی ہو گئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کا نشانہ جمعیت علما اسلام (نظریاتی) کے مرکزی نائب امیر مولانا عبدالقادر لونی تھے جو اس حملے میں معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

ایس ایچ او چمن پولیس مقصو د احمد کے حوالے سے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ’دھماکہ افغان سرحد سے ملحقہ چمن کے علاقے مرغی بازار کے بوغرہ چوک میں ہوا جس میں دو گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ ان میں سے ایک گاڑی مولانا عبدالقادر لونی کی تھی۔‘
ایس ایچ او کے مطابق ’ریلی اور جلسہ ختم ہوگیا تھا، جس میں پانچ سو کے لگ بھگ افراد شریک تھے۔ مولانا عبدالقادر لونی واپس جا رہے تھے۔ جلسہ گاہ سے پچاس فٹ کی دوری پر ان کی گاڑی کے قریب دھماکہ ہوا۔

مقصود احمد نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ دھماکہ موٹر سائیکل پر نصب ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے کیا گیا۔ ایس ایچ او کے مطابق مرنے والوں میں پارٹی کارکن اور راہ گیر شامل ہیں۔

جے یو آئی نظریاتی کے چمن جنرل سیکریٹری عبدالولی سالار نے بتایا کہ ’راستے میں کسی نے موٹر سائیکل ایسے کھڑی کر رکھی تھی جس سے گاڑی کا راستہ بند ہو رہا تھا۔ ایک کارکن نے جا کر موٹر سائیکل ہٹائی جب مولانا عبدالقادر لونی کی گاڑی قریب پہنچی تودھماکہ ہوگیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’مولانا عبدالقادر لونی معمولی زخمی ہیں انہیں ہسپتال سے مقامی پارٹی رہنما کے گھر منتقل کردیا گیا ہے۔‘
دھماکے میں زخمی ہونے والے افرا د کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں چار زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرکے تمام عملے کو طلب کرلیا گیا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق چاروں شدید زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد کوئٹہ منتقل کریا گیا۔

پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع بلوچستان کے شہر چمن میں اس سے پہلے بھی سیاسی و مذہبی رہنماؤں کو بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور صوبائی وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو نے بم حملے کی مذمت اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو نے متعلقہ حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے