.

عدالت کے طلب کرنے پرسانحہ اے پی ایس کیس میں وزیرِ اعظم سپریم کورٹ میں پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان عدالت کی جانب سے طلب کرنے پر بدھ کے روز سپریم کورٹ میں پیش ہو گئے۔ ​سپریم کورٹ نے آرمی پبلک اسکول حملے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران وزیرِاعظم عمران خان کو طلب کیا تھا۔

اسلام آباد میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے آرمی پبلک اسکول حملے پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان پیش ہوئے اور گزشتہ سماعت پر دیے گئے حکم پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔

عدالت نے گزشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل کو ہدایت کی تھی کہ وہ آرمی پبلک اسکول میں جان سے جانے والے بچوں کے والدین کی اعلیٰ سول وعسکری حکام کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر حکومت سے ہدایت لے کر عدالت کو آگاہ کریں۔

آرمی پبلک اسکول حملے میں ہلاک بچوں کے والدین نے سابق آرمی چیف راحیل شریف، سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام، سابق وزیرِ داخلہ چوہدری نثار و دیگر حکام پر مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی تھی۔

بدھ کو سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیرِ اعظم کو عدالتی حکم نہیں بھیجا تھا، وہ وزیرِ اعظم عمران خان کو عدالتی حکم سے آگاہ کریں گے۔ جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل صاحب، یہ سنجیدگی کا عالم ہے؟ وزیرِ اعظم کو بلائیں، ان سے خود بات کریں گے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا سابق آرمی چیف اور دیگر عہدیداروں کے خلاف مقدمہ درج ہوا ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سابق آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف انکوائری رپورٹ میں کوئی فائنڈنگ نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک میں اتنا بڑا انٹیلی جنس سسٹم ہے۔ دعویٰ بھی ہے کہ ہم دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسی ہیں۔ اربوں روپے انٹیلی جنس پر خرچ ہوتے ہیں۔ اپنے لوگوں کے تحفظ کی بات آئے تو انٹیلی جنس کہاں چلی جاتی ہے؟

ازخود نوٹس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں کو اسکولوں میں مرنے کےلیے نہیں چھوڑ سکتے۔ چوکیدار اور سپاہیوں کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی۔ اصل میں تو کارروائی اوپر سے شروع ہونی چاہیے تھی۔ اوپر والے تنخواہیں اور مراعات لے کر چلتے بنے۔

خیال رہے کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین کے مطالبے پر ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا جس نے سال 2020 میں سامنے آنے والی اپنی رپورٹ میں سانحے کو سیکیورٹی کی ناکامی قرار دیا تھا۔

تین ہزار صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ غداری کے سبب سیکیورٹی پر سمجھوتہ ہوا اور دہشت گردوں کا منصوبہ کامیاب ہوا جب کہ دہشت گردوں کو مقامی افراد کی طرف سے ملنے والی سہولت کاری ناقابلِ معافی ہے۔

سانحہ 'اے پی ایس' کا پس منظر

سولہ دسمبر 2014 کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے چھ دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردی کی کارروائی کرتے ہوئے طلبہ سمیت 140 سے زائد افراد کو شہید کر دیا تھا۔

اس حملے میں اسکول کے معصوم بچوں اور اساتذہ کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا جب کہ دھماکے بھی ہوئے تھے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

سیکیورٹی فورسز نے حملے میں ملوث چھ دہشت گردوں کو ہلاک جب کہ اس حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے اور سہولت کاروں کو گرفتار کرنے یا مارنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

اے پی ایس حملے کے بعض سہولت کاروں کو فوجی عدالت سے موت کی سزا بھی سنائی جا چکی ہیں۔