پاکستان میں دہشت گردی کے معاملے پرتمام فیصلے پارلیمان کوکرنے چاہییں:بلاول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے وزیرخارجہ اورحکمران اتحاد میں شامل پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلال بھٹو زرداری نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ دہشت گردی کے معاملے سے متعلق تمام فیصلے پارلیمان کو کرنے چاہییں۔انھوں نے یہ بات حکومت اورکالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان افغانستان میں جاری بات چیت کے تناظر میں کہی ہے۔

بلاول بھٹو کئی مواقع پراس بات کا ذکر کر چکے ہیں کہ وہ ذاتی طور پر دہشت گردی سے متاثرہ ہیں۔ان کی والدہ اور سابق وزیراعظم بے نظیربھٹو کو دسمبر2007ء میں لیاقت باغ،راول پنڈی میں دہشت گردی کے حملے میں شہید کردیا گیا تھا۔

انھوں نے ہفتے کے روزاجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اپنے اتحادیوں کے ساتھ آگے بڑھنے کے راستے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے رابطہ کرے گی۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ پیپلزپارٹی نے دہشت گردی کے معاملے پرتبادلہ خیال کے لیے ایک اعلیٰ سطح کااجلاس منعقد کیا ہے۔انھوں نے خاص طور پر افغانستان میں حالیہ پیش رفت کی روشنی میں، ٹی ٹی اے (تحریک طالبان افغانستان) اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا کوئی حوالہ دیے بغیرٹویٹ کیا کہ پی پی پی کا خیال ہے کہ تمام فیصلے پارلیمنٹ کو کرنے چاہییں۔

اس اجلاس میں پیپلزپارٹی کے سینیر رہ نماؤں یوسف رضا گیلانی،راجا پرویزاشرف، مرادعلی شاہ، شیری رحمان، خورشید شاہ، فریال تالپور، نیئربخاری، نجم الدین، فیصل کریم کنڈی، ہمایوں خان، قمرالزمان کائرہ، چودھری یاسین، چودھری منظور، ندیم افضل چن، اخوندزادہ چٹان، رخسانہ بنگش، نثارکھوڑواور فرحت اللہ بابر نے شرکت کی۔اس کی صدارت بلاول بھٹوزرداری اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کی۔

پی پی پی کے صوبہ خیبرپختونخوا کے رہ نما اخوندزادہ چٹان بھی پاکستانی قبائل پر مشتمل اس وفد کا حصہ تھے جس نے رواں ماہ کے اوائل میں افغان دارالحکومت کابل میں ٹی ٹی پی کے نمایندوں سے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں تشدد کے خاتمے کے لیے بات چیت کی تھی۔

اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان کے مطابق پیپلزپارٹی نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ تمام فیصلے پارلیمنٹ کو کرنے چاہییں اور اس ضمن میں پارلیمنٹ کواعتماد میں لینا ہوگا۔افغان طالبان کی عبوری حکومت اسلام آباد اور ٹی ٹی پی کے درمیان امن مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کررہی ہے۔ٹی ٹی پی کی قیادت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پہلے ہی کابل میں ہے۔

گذشتہ ماہ حکومت اور ٹی ٹی پی نے جنگ بندی میں غیرمعیّنہ مدت تک توسیع اور قبائلی سرحدی علاقے میں قریباً دودہائیوں سے جاری عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے سےاتفاق کیا تھا۔بعد ازاں 50 رکنی قبائلی جرگہ بھی مذاکرات میں شامل ہو گیا تھا۔

پی پی پی قبل ازیں پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کے دور میں کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت کر چکی ہے اور یہ سوال اٹھا چکی ہے کہ جنگجوؤں سے بات چیت کے عمل میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔بلاول بھٹو زرداری ان مذاکرات کو’’شہیدوں کے خون سے دھوکا‘‘ کے مترادف قرار دے چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں