پاکستان کوتباہ کن سیلاب کے بعد مالی امداد کی اشد ضرورت ہے: وزیرخارجہ بلاول
آئی ایم ایف اوردیگر بین الاقوامی ادارے تباہی کی سطح اور شدت کو حقیقی معنوں میں سمجھیں:انٹرویو
پاکستان کو’’تباہ کن سیلاب سے نمٹنے کے لیے مالی امدادکی اشد ضرورت‘‘ ہے۔ یہ بات وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اتوارکو ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) جیسے مالیاتی ادارے سیلاب کے معاشی مضمرات کو مدنظر رکھیں گے۔
مون سون کی غیرمعمولی شدید بارشوں کی وجہ سے ملک کے شمال اورجنوب دونوں میں تباہ کن سیلاب آیا ہے جس سے تین کروڑ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں اور ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔ہزاروں مکانات منہدم ہوگئے ہیں یا سیلابی ریلوں کی نذرہوگئے ہیں۔
وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری نے رائٹرزکو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ’’میں نے اس پیمانے کی تباہی پہلے کبھی نہیں دیکھی ہے، مجھے الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل لگتا ہے۔یہ بہت زیادہ ہے اور بہت سی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں جس سے آبادی کی روزی روٹی کا بیشتر حصہ ختم ہو چکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ظاہر ہے کہ اس کا اثرمجموعی معاشی صورت حال پرپڑے گا۔توقع ہے کہ پاکستانی حکام اورآئی ایم ایف کے عملہ کے درمیان معاہدہ طے پاجائے گا اورانھیں امید ہے کہ آنے والے مہینوں میں آئی ایم ایف سیلاب کے اثرات کو تسلیم کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ میں نہ صرف آئی ایم ایف بلکہ عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے بھی توقع کروں گا کہ وہ تباہی کی سطح اور شدت کو حقیقی معنوں میں سمجھیں۔
پاکستان پہلے ہی معاشی بحران کا شکار تھا، اسے افراط زر، کرانسی کی قدر میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا تھا۔آئی ایم ایف کا بورڈ رواں ہفتے یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا پاکستان کے بیل آؤٹ پروگرام کی ساتویں اورآٹھویں قسط کے حصے کے طور پر ایک ارب 20 کروڑ ڈالر جاری کیے جائیں یا نہیں۔پاکستان سابق وزیراعظم عمران خان کے دورحکومت میں 2019 میں آئی ایم ایف کے اس پروگرام میں شامل ہوا تھا۔
موسمیاتی تبدیلی
وزیرخارجہ نے کہا کہ سیلاب کے معاشی اثرات کا ابھی اندازہ لگایاجا رہا ہے۔کچھ اندازوں کے مطابق اس کی لاگت 4 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ بنیادی ڈھانچے اور لوگوں کی روزی روٹی پر اثرات کے پیش نظر مجموعی تخمینہ اس سے کہیں زیادہ ہوگا۔
بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ پاکستان رواں ہفتے ایک اپیل کا آغازکرے گا جس میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے امدادی کوششوں میں حصہ ڈالنے کا تقاضا کیا جائے گا اور ملک کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے طویل مدتی اثرات سے کیسے نمٹ سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں جب ہم بحالی اور تعمیرنو کی طرف دیکھیں گے تو نہ صرف آئی ایم ایف بلکہ عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی اس سلسلے میں بات چیت ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ امدادی کوششوں کے بعد ملک کو یہ دیکھنا ہوگاکہ سیلاب اور خشک سالی دونوں کے خلاف زیادہ مزاحمت کے حامل بنیادی ڈھانچے کو کیسے تیار کیا جائے اور زراعت کے شعبے کو درپیش بڑی تبدیلیوں سے کیسے نمٹا جائے۔
انھوں نے بتایا کہ پاکستان مجموعی طور پرکاربن کے اخراج میں نہ ہونے کے برابر حصہ ڈالتا ہے مگر اس حقیقت کے باوجود ہم باربار موسمیاتی آفات کا شکار ہوجاتے ہیں اورہمیں اپنے محدود وسائل کے ساتھ اس نئے ماحول میں رہنے کے لیے ڈھلناہوگا۔
پاکستان کے مرکزی بینک نے مون سون کی ریکارڈ بارش کو معاشی پیداوار کے لیے خطرہ قراردیا تھا۔ملک کے مختلف علاقوں میں ہزاروں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں سیلاب کی نذرہوگئی ہیں اورہزاروں کی تعداد میں مویشی بھی بہ گئے ہیں۔سیلاب سے بستیوں کی بستیاں معدوم ہوگئی ہیں۔شہری ڈھانچے کو بری طرح نقصان پہنچا ہے،سڑکیں اور پل ٹوٹ گئے ہیں جس سے صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے بہت سے علاقے ملک کے دوسرے حصوں سے کٹ کررہ گئے ہیں۔