لاہور ہائی کورٹ کے ججز کی مریم نواز کا پاسپورٹ کیس سننے سے چوتھی بار معذرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے فاضل رکن نے مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کے لیے درخواست پر سماعت سے معذرت کر لی۔

ہائی کورٹ کے جسٹس انوار الحق پنوں نے درخواست پر سماعت سے معذرت کی۔ بینچ کے سربراہ جسٹس علی باقر نجفی نے فائل چیف جسٹس کو واپس بھجوا دی۔ مریم نواز کی درخواست پر چیف جسٹس دوبارہ بینچ تشکیل دیں گے۔

مسلم لیگ (ن ) کی نائب صدر مریم نواز نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ چار سال سے پاسپورٹ عدالتی تحویل میں ہے۔ اب تک نیب چوہدری شوگر مل کا چالان پیش نہیں کر سکا جبکہ عدالت نے میرٹ پر ضمانت منظور کی۔

درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ لمبے عرصے کے لیے کسی شخص کو اس کے بنیادی حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ پرویز مشرف اور ایان علی کے کیسز کے فیصلے اس کی نظیر ہیں۔ عدالت سے پاسپورٹ واپس کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ مریم نواز کو اگست 2019 میں چوہدری شوگر ملز کیس میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ جیل میں اپنے والد اور پارٹی قائد نواز شریف سے ملاقات کر رہی تھیں۔

مریم نواز 48 دن اس کیس میں نیب کی حراست میں رہیں جس کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا۔

بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے انہیں ضمانت بعد از گرفتاری میں رہا کیا تاہم انہوں نے عدالتی حکم کے مطابق 7 کروڑ روپے نقد اور اپنا پاسپورٹ ڈپٹی رجسٹرار کے پاس رکھوا دیا۔

اس سے قبل مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے پاسپورٹ واپس لینے کی درخواست اپریل میں اس وقت دائر کی جب مسلم لیگ ن اور اتحادیوں نے حکومت سنبھالی تھی۔

تاہم اس وقت ایک ایسی صورت حال پیدا ہوئی جس میں تین مرتبہ مختلف ججز نے ان کا کیس سننے سے معذرت کی تھی۔

پہلا بینچ جسٹس انوارالحق پنوں اور جسٹس سید شہباز علی رضوی پر مشتمل تھا۔ اس بینچ کے جسٹس سید شہباز علی رضوی نے یہ کیس سننے سے معذرت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اس درخواست کو وہی بینچ سنے جس نے پہلے ضمانت کی درخواست سنی تھی، فائل واپس چیف جسٹس منیر بھٹی کو بھیج دی گئی۔

چیف جسٹس نے کیس دوبارہ ایک نئے دو رکنی بینچ کو بھیج دیا جو جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل تھا۔

لیکن جیسے ہی کیس کی سماعت شروع ہوئی تو بینچ سربراہ جسٹس علی باقر نے یہ ریمارکس دیے کہ ان کے ساتھی جج یہ کیس سننا نہیں چاہتے اس لیے یہ فائل واپس چیف جسٹس صاحب کو جا رہی ہے۔

تیسری مرتبہ اس درخواست کی سماعت کے لیے نیا بینچ بنا جس کی سربراہی جسٹس علی باقر نجفی نے کی جبکہ ان کے ساتھ جسٹس اسجد گھرال شامل تھے۔ تاہم کیس کی سماعت شروع ہوتے ہی جسٹس اسجد گھرال نے اپنے آپ کو اس کیس سے الگ کر لیا۔

تین ججز نے انکار اور تین بینچ ٹوٹنے کے بعد مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ سے اپنی درخواست واپس لے لی تھی اب انہوں نے چار مہینے گزرنے کے بعد دوبارہ درخواست دائر کی ہے جس کو ایک مرتبہ پھر ججز نے سننے سے انکار کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں