وزیراعظم شہباز شریف کی مبینہ آڈیو ٹیپ لیک ہو گئی

آڈیو میں وزیر اعظم سے رشتہ دار کو 'سہولت' فراہم کرنے کی درخواست کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور ایک سرکاری عہدیدار کے درمیان مبینہ طور پر ہونے والی مبینہ گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر لیک ہو گئی۔

جس پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم ریاست سے زیادہ اپنے خاندان کے کاروباری مفادات کو سامنے رکھتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق دو منٹ سے زیادہ طویل آڈیو کلپ میں مبینہ طور پر وزیراعظم کی آواز کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے ’’کہ مریم نواز شریف نے ان سے اپنے داماد کو بھارت سے پاور پلانٹ کے لیے مشینری کی درآمد میں سہولت فراہم کرنے کا کہا۔‘‘

آڈیو کلپ میں عہدیدار کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ 'اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو جب یہ معاملہ ای سی سی اور کابینہ کے پاس جائے گا تو ہمیں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا'۔

اس پر مبینہ طور پر وزیراعظم کی آواز میں کہا گیا ’’کہ داماد مریم نواز کو بہت عزیز ہے، انہیں اس کے بارے میں بہت منطقی طور پر بتائیں اور پھر میں ان سے بات کروں گا۔‘‘

یہی آواز اس خیال سے بھی اتفاق کرتی سنائی دی کہ یہ نظر کے لیے برا ہو گا اور سیاسی طور پر بہت زیادہ پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔

خیال رہے کہ مریم نواز کی صاحبزادی مہر النسا نے دسمبر 2015 میں صنعت کار چوہدری منیر کے بیٹے راحیل سے شادی کی تھی، یہ شادی اس لیے قابل ذکر تھی کہ اس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی شرکت کی تھی۔

آڈیو کلپ میں دوسری آواز پھر مریم نواز کے داماد کی ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق ایک اور معاملہ سامنے لاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اتحاد پارک ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک گرڈ سٹیشن لگانا تھا، جس کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے 'قومی طریقے' سے نمٹا جانا چاہیے۔

حکومتی عہدیدار نے یہ بھی تجویز کیا کہ سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کو اس معاملے سے نمٹنے کے لیے مصروف عمل ہونا چاہیے، جو اسے بہتر طریقے سے سنبھال سکتے ہیں۔

مبینہ آڈیو کے آخر میں سابق جسٹس مقبول باقر کا ذکر ہے، جن کے نام پر قومی احتساب بیورو کے اگلے سربراہ کے لیے غور کیا جا رہا تھا۔

عہدیدار وزیراعظم کو دو میڈیا پرسنز کی 'تجویز' پہنچاتے ہوئے سنے گئے وہ نیب کے سابق سربراہ جاوید اقبال کے ساتھ اپنے تجربے کو دیکھتے ہوئے ایک سابق جج کو چیئرمین نیب بننے کی پیشکش نہ کریں کیوں کہ جاوید اقبال بھی سابق جج تھے جنہیں مسلم لیگ (ن) نے ہی تعینات کیا تھا۔

یہ گفتگو مبینہ آڈیو کا وقت بتانے میں مدد کرتی ہے، کیونکہ نیب کے سربراہ کے تقرر کا معاملہ تقریباً دو ماہ قبل خبروں میں تھا، جس کے بعد سابق انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے سربراہ آفتاب سلطان کو انسداد بدعنوانی کے ادارے کی قیادت کے لیے منتخب کر لیا گیا تھا۔

ادھر وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور مریم نواز شریف کے معاون ذیشان ملک نے کئی بار کوششوں کے باوجود تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں