مفتیِ اعظم پاکستان رفیع عثمانی کی نمازجنازہ کل ادا کی جائے گی: مفتی تقی عثمانی

صدر جامعہ دارالعلوم کراچی مفتی رفیع عثمانی طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

مفتیِ اعظم پاکستان اور جامعہ دارالعلوم کراچی کے صدر مفتی رفیع عثمانی کی نماز جنازہ اتوار (20 نومبر) کو ادا کی جائے گی۔ان کے چھوٹے بھائی مفتی تقی عثمانی نے بتایا کہ مفتی صاحب مرحوم کی نماز جنازہ 9 بجے دارالعلوم کورنگی میں ادا کی جائے گی۔

واضح رہے کہ صدر جامعہ دارالعلوم کراچی مفتی رفیع عثمانی جمعہ کوطویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے تھے، اُن کی عمر 86 برس تھی۔

مرحوم، مفتی تقی عثمانی کے بڑے بھائی، جامعہ دارالعلوم کراچی کے صدر اور وفاق المدارس العربیہ کے سرپرست اعلیٰ بھی تھے۔

وہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نائب صدر، جامعہ کراچی اور ڈاؤ یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کے رکن، اسلامی نظریاتی کونسل، رویت ہلال کمیٹی اور زکوٰۃ وعشر کمیٹی سندھ کے رکن اور سپریم کورٹ آف پاکستان کی شریعت اپیلیٹ بینچ کے مشیر بھی رہے تھے۔

مفتی رفیع عثمانی تحریک پاکستان کے رہنما اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی کے بڑے صاحب زادے تھے۔انھوں نے ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم اپنے والد مفتی محمد شفیع سے ہی پائی تھی۔ ان کا شمار پاکستان کے سرکردہ علما میں ہوتا تھا۔انھوں نے درجن بھر کتابیں لکھیں جن میں درس مسلم شریف، دو قومی نظریہ، اور نوادر الفقہ قابل ذکر ہیں۔

مفتی رفیع عثمانی کی تعلیم اور خدمات

مفتی اعظم پاکستان محمد رفیع عثمانی 21 جولائی 1936 کو برطانوی ہندوستان کے متحدہ صوبہ جات (موجودہ اُترپردیش) کے ضلع سہارنپور کے مشہور قصبے دیوبند میں تحریک پاکستان کے سرکردہ رہنما مفتی اعظم محمد شفیع عثمانی کے گھر پیدا ہوئے تھے۔

انھوں نے ابتدائی تعلیم اور حفظ قرآن کا آغاز دارلعلوم دیوبند سےکیا اور 1947میں خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے پاکستان آئے تو آپ کی عمر 12سال تھی۔

مفتی رفیع عثمانی نے 1948 میں مسجد باب السلام آرام باغ کراچی سے حفظ قرآن مکمل کیا اور 1951 میں اپنے والد کی قائم کردہ دینی درسگاہ جامعہ دارالعلوم کراچی نانک واڑہ سے درس نظامی کی تعلیم کے لیے داخلہ لیا اور ان کا شمار دارالعلوم کے اولین طلبہ میں ہوتا تھا۔

مفتی رفیع عثمانی نے 1960 میں عالم، فاضل، مفتی کی تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی کیا اور جامعہ دارالعلوم کراچی سے ہی تدریس کا آغاز کیا اور 1971میں دارالافتاء اور دارالحدیث کی ذمہ داریاں سنبھال لی۔

انھوں نے 1976 میں مفتی شفیع عثمانی کے انتقال کے بعد دارالعلوم کراچی کا انتظام سنبھال لیا اور ان کی کاوشوں سے دارالعلوم کراچی کا شمار آج پاکستان کے بڑے تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔

مفتی رفیع عثمانی کو 1995 مفتیِ اعظم ولی حسن ٹونکی کے انتقال کے بعد علمی خدمات کے اعتراف میں علما کرام نے مفتی اعظم پاکستان قرار دیا اور اہم مواقع پر رہنمائی کی۔

مفتی رفیع عثمانی نے 2 درجن سے زیادہ تحقیقی مقالے اورکتب تحریر کیں، جن میں اختلاف رحمت، فرقہ بندی حرام، دو قومی نظریہ، فقہ میں اجماع کا مقام، یورپ کی جاگیرداری، سرمایہ داری اور اشتراکی نظام کا تاریخی پس منظر اور مسلکِ دیوبند فرقہ نہیں اتباع سنت سمیت دیگر کتب شامل ہیں۔

تعزیتی پیغامات

مفتی محمد رفیع عثمانی کے انتقال پر صدر مملکت، وزیراعظم اور جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سمیت دیگر علمائے کرام نے دکھ اور غم کا اظہار کیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے صدر جامعہ دار العلوم کراچی مفتی رفیع عثمانی کے انتقال پر گہرے رنج اور غم کا اظہار کیا اور انھیں دینی اور علمی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ مفتی رفیع عثمانی نے فقہ، حدیث اور تفسیر کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دیں، ان کی دینی اور علمی خدمات اوردینی علم کے فروغ میں خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مفتی رفیع عثمانی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔اپنےتعزیتی بیان میں وزیراعظم نے مرحوم کی بلندی درجات کے لیے دعا کی اور سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مرحوم مفتی رفیع عثمانی کی دینی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے تعزیتی بیان میں کہا کہ مفتی محمد رفیع عثمانی کی وفات سے پاکستان ایک متوازن افکار ونظریات کے حامل، معتدل، بلند پایہ فقیہ اور مفتی سےمحروم ہوگیا۔

انھوں نے کہا کہ ان کی گراں قدر علمی خدمات کویاد رکھا جائے گا،انھوں نے اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی، ان کی وفات سے دل رنجیدہ ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف اور ڈپٹی اسپیکر زاہد اکرم درانی نے مفتی رفیع عثمانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اے پی پی کے مطابق اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر نے الگ الگ تعزیتی پیغامات میں کہا کہ مولانا مفتی رفیع عثمانی کے انتقال سے ملک ایک ممتاز عالم دین سے محروم ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مفتی رفیع عثمانی کی دینی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مفتی رفیع عثمانی کا انتقال نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام کے لیے بڑا نقصان ہے، مرحوم ہمیشہ امن، بھائی چارے اور اتحاد بین المسلمین کے فروغ کے لیے کوشاں رہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے مفتی رفیع عثمانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا انتقال ناقابل تلافی نقصان ہے، مرحوم کی دینی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے مفتی محمد رفیع عثمانی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے لیے عظیم نقصان ہے، دینی تعلیمات کے فروغ کے لیے مفتی صاحب کی خدمات بے مثال ہیں۔ گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا ایک عرصے تک پر نہیں ہوسکے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ممتاز عالم دین مفتی محمد رفیع عثمانی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ مفتی صاحب کا انتقال اسلام کے لیے عظیم سانحہ ہے، ان کی دینی خدمات لازوال ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں