پاکستان کے وزیرمملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کاایک وفدروس سے سستے داموں تیل کی درآمد کے معاہدے پر تبادلہ خیال کے لیے ماسکو روانہ ہوگیا ہے۔
سستے داموں تیل کی درآمد کے معاہدے سے پاکستان کو ڈالرکی بچت اور ایندھن کی آسمان کو چھوتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
مصدق ملک کی سربراہی میں سیکرٹری پیٹرولیم محمد محمود اور دیگرحکام پر مشتمل وفد پیٹرولیم اور اس کی مصنوعات کے شعبے میں اسلام آباد اورماسکو کے درمیان تعاون پر تبادلہ خیال کرے گا۔مزید برآں پاک اسٹریم گیس لائن پرتعمیراتی کام شروع کرنے کے بارے میں بھی بات چیت کی جائے گی۔
تاہم اس وفد کے دورے کے حوالے سے سرکاری طورپرکوئی زیادہ تفصیل جاری کی گئی ہے اور نہ یہ بتایا گیا ہے کہ پاکستانی حکام روس میں کس سے ملیں گے یا مذاکرات کب ہوں گے۔
اس سے قبل وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ وفد ماسکو کے ساتھ تیل کی خریداری کے ممکنہ سمجھوتے پر بات چیت کرے گا۔
انھوں نے جمعہ کی رات ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ’’ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ یہ دورہ کامیاب ہو اور حکومت سازگاراور موافق شرائط و ضوابط پر معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوجائے‘‘۔
پاکستان میں حالیہ مہینوں میں سستے نرخوں پر روس سے خام تیل کی خریداری ایک گرماگرم موضوع رہاہے کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اورخاص طور پرپاکستان جیسی ترقی پذیر معیشتوں کے لیے تکلیف دہ رہا ہے ، جو اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
بینک دولت پاکستان (ایس بی پی) کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے رواں مالی سال کے پہلے چارماہ (جولائی تا اکتوبر)کے دوران میں 7.547 ارب ڈالر مالیت کی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کی ہیں۔
اس سے قبل 13 نومبر کو دبئی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ اسلام آباد کا مقصد ماسکو کے ساتھ نئی دہلی جیسی شرائط پر درآمدی معاہدے پر دستخط کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو بتایا گیا تھا کہ پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے کیونکہ بھارت بھی ایسا کررہا ہے۔
گذشتہ ماہ پیٹرولیم ڈویژن کے ایک عہدہ دار نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایا تھا کہ روس سے رعایتی نرخوں پر خام تیل اور مصفا مصنوعات مقامی آئل ریفائنریوں کی محدود صلاحیت اور مشرقِ اوسط کی تیل کمپنیوں کے ساتھ ان کے طویل مدتی معاہدوں کی وجہ سے ایک اندازے کے مطابق ایک ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ کی بچت نہیں کر سکتیں۔