پاکستان میں فعال دہشت گردوں کے کالعدم گروپ تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) نے بدھ کے روز ملک کےاہم سراغرساں ادارے کے ایک سینیرافسر اورایک اہلکار کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیاہے۔ان دونوں افسروں کا قتل ملک کو ہلا کررکھ دینے والے انتہا پسندانہ تشدد کے دوبارہ عروج کا تازہ واقعہ ہے۔
پاکستان کے بڑے صوبہ پنجاب کے ضلع خانیوال میں ایک ہوٹل کے باہر انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ان دونوں اہل کاروں کومنگل کو گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔
پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے خلاف برسر پیکارمختلف جنگجو گروپوں پرمشتمل ٹی ٹی پی نے گذشتہ سال پاکستانی حکومت کے ساتھ طے شدہ جنگ بندی کوختم کردیا تھا اور ملک بھر میں سکیورٹی فورسز اور سرکاری اہلکاروں پرحملوں کا ایک سلسلہ شروع کردیا تھا۔
ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے میڈیا کوجاری کردہ ایک بیان میں کہا:’’گذشتہ روز ٹی ٹی پی کے ایک خفیہ اسکواڈ نے آئی ایس آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ملتان نوید صادق اور اس کے ساتھی انسپکٹرناصربٹ کو پنجاب کے ضلع خانیوال میں بسم اللہ ہائی وے پرقتل کردیا تھا‘‘۔
محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے بدھ کے روز ایک بیان میں ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہےلیکن ٹی ٹی پی کے کردار کی تصدیق نہیں کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دونوں افسروں نے ہوٹل میں مشتبہ قاتل سے ملاقات کی تھی اور اس کے ساتھ چائے کا کپ پیا تھا۔
سی ٹی ڈی نے واقعہ کی سکیورٹی کیمرے کی فوٹیج جاری کرتے ہوئے بتایا کہ چائے پینے کے بعد ملزم نے ہوٹل کی پارکنگ میں دونوں اہلکاروں کوگولی مار دی اورموٹرسائیکل پرفرارہوگیا تھا۔
یہ واقعہ پاکستان کی اعلیٰ سویلین اورفوجی قیادت کی جانب سے عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے 'پوری طاقت' استعمال کرنے کے عزم کے ایک روز بعد پیش آیا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والا ایک خودکش حملہ بھی شامل ہے لیکن اس میں حملہ آوراپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہا تھا اور ایک پولیس اہلکار نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے اس حملے کو ناکام بنا دیا تھا۔
پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی ہمسایہ ملک افغانستان سےکام کر رہی ہے لیکن طالبان انتظامیہ نے اس الزام کی تردید کی ہے۔منگل کے روز افغانستان کی طالبان انتظامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ پاکستانی الزامات ’بے بنیاد‘اور’اشتعال انگیز‘ ہیں۔انھوں نے کہاکہ طالبان انتظامیہ پوری کوشش کر رہی ہے کہ کسی کوبھی دوسرے ممالک میں حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال نہ کرنے دی جائے۔
دریں اثناء وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں قوم کویقین دلایا ہے کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کےلیے اقدامات کر رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ریاست کی کوششوں کی تشہیرنہیں کی جا سکتی کیونکہ اس صورت میں وہ اپنی کامیابی پر سمجھوتا کرے گی۔
پاکستان بھر میں دہشت گردوں کے حملوں میں حالیہ ہفتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی منصوبہ بندی اور ہدایت افغانستان میں مقیم کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہ نماؤں نے کی تھی۔
ٹی ٹی پی نے گذشتہ سال پاکستان میں 100 سے زیادہ حملے کیے تھے۔ان میں سے زیادہ تر اگست کے بعد ہوئے جب پاکستانی حکومت کے ساتھ گروپ کے امن مذاکرات ناکام ہوگئے تھے۔ٹی ٹی پی نے 28 نومبر کوحکومت کے ساتھ جنگ بندی کو باضابطہ طورپر ختم کردیا تھا۔
واضح رہے کہ ٹی ٹی پی 2001 میں افغانستان میں طالبان کواقتدار سے بے دخل کرنے اورانھیں سرحد پار کرکے پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں دھکیلنے کے ردعمل میں ابھری تھی۔اس کے جنگجوؤں نے اس کے بعدکے برسوں میں پاکستانی ریاست کے خلاف ہتھیاراٹھالیے تھے اورسکیورٹی فورسز کے علاوہ عام شہریوں پر بھی حملے شروع کردیے تھے۔