پشاور:پولیس لائنز کی مسجد میں خودکش بم دھماکا،93 افراد شہید، 221 زخمی
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ
صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاورمیں پولیس لائنز کے علاقے میں واقع مسجد کے اندر ہونے والے بم دھماکے میں 93 افراد شہید اور 221 زخمی ہو گئے ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
دھماکا سوموار کی دوپہرایک بج کر 40 منٹ پر اس وقت ہوا جب نمازِظہرادا کی جا رہی تھی۔دھماکے کے فوری بعد پولیس، فوج اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکار مسجد میں پہنچ گئے اور انھوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
ٹیلی ویژن چینلوں پر چلنے والے مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ مسجد کی منہدم دیوار کے ارد گرد جمع ہورہے ہیں۔ بم دھماکے کے بعد پشاور کے ریڈ زون کی طرف جانے والی سڑکیں بند کردی گئی ہیں۔اس علاقے میں میں گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ، کور ہیڈ کوارٹرز اور اہم دفاعی تنصیبات شامل ہیں۔
مسجد کے اندر300 سے افراد نمازادا کر رہے تھے جب بمبار نے دھماکاخیز جیکٹ کو دھماکے سے اڑایا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ امدادی کارکنوں نے مسجد کے احاطے سے ملبے کے ڈھیر ہٹانے کی کوشش کی تاکہ ملبے تلے دبے نمازیوں تک رسائی حاصل کی جاسکے۔
ایک پولیس افسرصدیق خان نے بتایا کہ متعدد افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ان میں مسجد پیش امام نورالامین بھی شامل ہیں۔ان کے بہ قول حملہ آور نے نمازیوں کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑایا تھا۔پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) کے ترجمان محمد عاصم نے بھی ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کی ہے۔
کمشنرپشاور ریاض محسود نے بتایا ہے کہ مسجد کے اندر ریسکیو آپریشن جاری ہے کیونکہ متعدد افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد شہر بھر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں مہیا کی جارہی ہیں۔
پشاور کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) محمد اعجاز خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کے بعد مسجد کی چھت گرگئی تھی اورکئی جوان اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور امدادی کارکن انھیں باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ مسجد کا مرکزی ہال دھماکے کے نتیجے میں منہدم ہوگیا ہے۔اس میں 250 سے 300 افراد کے بیک وقت نمازادا کرنے کی گنجائش تھی لیکن باقی عمارت اب بھی برقرار ہے۔
دھماکے کی نوعیت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ دھماکاخیزمواد کی بو کا پتا چلا ہے لیکن اس بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔انھوں نے مزید بتایا کہ دھماکے کے وقت علاقے میں 300 سے 400 کے درمیان پولیس اہلکار موجود تھے۔ سی سی پی او نے میڈیا کو بتایا کہ یہ واضح ہے کہ سکیورٹی میں کوتاہی ہوئی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ لاشوں اور زخمیوں کولیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
کے پی کے گورنرحاجی غلام علی نے دھماکے کی مذمت کی ہےاور پشاور کے لوگوں سے زخمیوں کے لیے خون کا عطیہ دینے کی اپیل کی ہے۔سابق صوبائی وزیراعلیٰ محمود خان نے پشاور اور ملحقہ علاقوں میں پی ٹی آئی کارکنوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ایل آر ایچ پہنچ کر متاثرین کو خون کاعطیہ دیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ دھماکے میں زخمیوں کو خصوصاً او نیگیٹو بلڈ گروپ کے لیے خون کا عطیہ دیں۔انھوں نے قوم پر بھی زور دیا کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے ایل آر ایچ پہنچیں اور قیمتی جانوں کو بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
بم دھماکے میں شہید اورزخمیوں میں زیادہ تر پولیس اہلکار تھے۔ یہ واضح نہیں ہواکہ بمبار دیواروں سے بنے اس کمپاؤنڈ میں کیسے داخل ہوا، جہاں شمال مغربی شہر پشاور کا پولیس ہیڈ کوارٹر ہے اور یہ خود دیگر سرکاری عمارتوں کے ساتھ ہائی سکیورٹی زون میں واقع ہے۔
وزیراعظم اورآرمی چیف کا دورۂ پشاور
وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مسجد میں بم دھماکے کے بعد پشاور کا دورہ کیا ہے جہاں انھیں دھماکے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، وزیردفاع خواجہ آصف اور وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔
وزیراعظم کو کورکمانڈر پشاور کی جانب سے بریفنگ دی گئی جبکہ صوبائی پولیس چیف نے دھماکے سے متعلق ابتدائی رپورٹ پیش کی۔وزیراعظم کو دھماکے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی دکھائی گئی۔بعد ازاں انھوں نے ایل آر ایچ کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف آج ہنگامی دورے پر پشاور پہنچے۔
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) January 30, 2023
وزیراعظم شہباز شریف کو کور کمانڈر پشاور نے دہشت گردی کے عوامل اور محرکات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخواء نے پولیس لائنز میں ہونے والے خود کش حملے پر ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی۔ pic.twitter.com/jzczAHchJ4
انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’’میں ابھی پشاور سے واپس آیا ہوں۔ نسانی المیے کا پیمانہ ناقابل تصور ہے۔یہ پاکستان پر کسی حملے سے کم نہیں ہے۔ قوم گہرے رنج و غم میں ڈوبی ہوئی ہے۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی ہماری قومی سلامتی کا سب سے بڑا چیلنج ہے‘‘۔
انھوں نے کہا کہ ’’سوگوار خاندانوں کے دکھ کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا لیکن میں ان سے دلی تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ آج کے گھناؤنے واقعے کے ذمہ داروں کے لیے میرا پیغام یہ ہے کہ آپ ہمارے لوگوں کے عزم کوتوڑ نہیں سکتے‘‘۔
مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ خودکش حملے میں زخمیوں کی جان بچانے کے لئے خون کے عطیات دیں، خاص طور پر 'او۔نیگیٹو' خون کے حامل عوام، طالب علم اور پارٹی کارکنان سے اپیل ہے کہ فی الفور لیڈی ریڈنگ ہسپتال، پشاور پہنچیں اور قیمتی انسانی جانیں بچانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) January 30, 2023
پشاورمیں پولیس ہیڈ کوارٹرشہر کے سب سے زیادہ کنٹرول والے علاقوں میں سے ایک میں واقع ہے،جہاں انٹیلی جنس اور انسداد دہشت گردی کے بیورو موجود ہیں اور یہ علاقائی سیکریٹریٹ کے بغل میں ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا کہ دہشت گردی کے اس واقعے کے ذمے دارحملہ آوروں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ دہشت گرد پاکستان کے دفاع کا فریضہ انجام دینے والوں کو نشانہ بنا کر خوف وہراس پھیلانا چاہتے ہیں۔
وزیراعظم نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور وعدہ کیا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔
انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی جائے گی اور وفاقی حکومت صوبوں کی انسداد دہشت گردی کی استعداد کار بڑھانے میں مدد کرے گی۔
وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقامی اور عام انتخابات سے قبل دہشت گردی کے واقعات معنی خیزہیں۔پاکستان کے دوسرے سیاسی لیڈروں اوروزراء نے بھی پشاور میں اس تباہ کن بم دھماکے کی مذمت کی ہے۔
Strongly condemn the horrendous terrorist incident in #Peshawar. Deeply saddened at loss of innocent lives; my heartfelt condolences to the affected families. Such cowardly acts will not deter our resolve against acts of terrorism in Pakistan.
— BilawalBhuttoZardari (@BBhuttoZardari) January 30, 2023
دریں اثناء پاکستانی طالبان کے ایک کمانڈر سربکف مہمند نے ٹویٹر پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔تاہم اس دہشت گرد جنگجو گروپ کے مرکزی ترجمان نے فوری طور پرکوئی بیان جاری نہیں کیا۔
نومبر کے بعد سے پاکستان میں جنگجوؤں کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جب پاکستانی طالبان نے ملک کے مسلح افواج کے ساتھ اپنی جنگ بندی ختم کردی تھی۔ یہ حالیہ برسوں میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک تھا۔
واضح رہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران میں ملک میں امن و امان کی صورت حال خراب ہوئی ہے اور دہشت گرد گروہ ملک بھر میں بلا روک ٹوک حملے کر رہے ہیں۔ گذشتہ سال نومبر میں حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم ہونے کے بعد سے ٹی ٹی پی نے اپنے حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔ یہ دہشت گرد گروپ خاص طورپر کے پی اور افغانستان کی سرحد سے متصل علاقوں میں پولیس کو نشانہ بنارہا ہے۔بلوچستان میں باغیوں نے بھی اپنی پرتشدد سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے اور کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ گٹھ جوڑ کو باضابطہ شکل دے دی ہے۔