پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ میں کانسٹیبلری کی وین پر خودکش بم حملے میں ایک شہری اور آٹھ پولیس اہلکار شہید ہو گئے ہیں۔
وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کے مطابق دھماکا سوموار کو صبح 10 بجے سبی اور کیچ اضلاع کی سرحد سے متصل علاقے میں کمبری پل پر ہوا۔انھوں نے بتایا کہ پولیس وین کیچ کی تحصیل ڈھاڈر سے کوئٹہ واپس آ رہی تھی۔
بلوچستان کانسٹیبلری صوبائی پولیس فورس کاایک محکمہ ہے اور اس کے اہلکاروں کو اہم تقریبات اور جیلوں سمیت حساس علاقوں میں سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات کیا جاتا ہے۔حملے میں نشانہ بننے والے سکیورٹی اہلکار سبی ثقافتی میلے میں ڈیوٹی کے بعد واپس آرہے تھے۔
پولیس وین کو ایک موٹر سائیکل سے حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کو ایک خودکش بمبار چلا رہا تھا۔ اس کے نتیجے میں نو افراد شہید اور 13افراد زخمی ہوئے ہیں۔وزیرداخلہ نے بتایاکہ تین زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ابھی تک کسی تنظیم نے حملےکی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ زخمیوں کوفوری طورپر ہیلی کاپٹر کے ذریعے کوئٹہ منتقل کردیاگیا ہے اوروفاقی حکومت شہیدوں کے حوالے سے بلوچستان حکومت کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کی اور شہید پولیس اہلکاروں کی بہادری کو خراج عقیدت پیش کیا۔انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے مذموم عزائم کا حصہ ہے۔انھوں نے ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
Policemen who got martyred in Bolan, Balochistan, today are heroes of the nation. May their souls rest in peace! My heartfelt condolences & prayers are with the bereaved families.
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) March 6, 2023
وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ دہشت گردعناصر بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ بدامنی اورعدم استحکام پیدا کرکے صوبہ بلوچستان کو پسماندہ رکھنے کی سازش کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ عوام کی حمایت سے ایسی تمام سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا۔