پنجاب اسمبلی کے 30اپریل کو ہونے والے صوبائی انتخابات ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے الیکشن کمیشن (ای سی پی) نے پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات رواں سال اکتوبر تک ملتوی کر دیے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے ملتوی کرنے کے جاری حکم نامے میں صوبائی حکومت کی جانب سے انتخابی عملی اور امن وامان کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اہل کاروں کی عدم دستیاب کو جواز بنایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ وفاق کی فنڈز کی فراہمی نہ ہونے کو بھی انتخابات کے التواء کی وجہ بتایا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کمیشن کی تمام تر کوششوں کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز پنجاب میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے کمیشن کی مدد نہیں کر سکیں۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے یہ انتخابات 30 اپریل کو کروانے کی تاریخ دی تھی۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو اپنے فیصلے کے ذریعے پنجاب و خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات آئین میں درج مدت کے مطابق 90 روز میں کروانے کا کہا تھا۔

تاہم عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو اجازت دی کہ وہ پولنگ کی ایسی تاریخ تجویز کرے جو کہ کسی بھی عملی مشکل کی صورت میں 90 روز کی آخری تاریخ سے ’کم سے کم‘ تاخیر کا شکار ہو۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کہ روشنی میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 3 مارچ کو پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات 30 اپریل بروز اتوار کرانے کی تجویز دی تھی۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات مقررہ وقت پر کروانےکے لیے پابند کرنے کی درخواست نا قابلِ سماعت قرار دے کر مسترد کی تھی۔

الیکشن کمیشن کے جاری حکم نامے کے مطابق پنجاب اسمبلی کے انتخابات الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 58 اور 8 سی کے تحت ملتوی کیے گئے ہیں۔

بدھ کے روز ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وفاقی وزر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ آئین کے تحت انتخابات بیک وقت ہونا ضروری ہے انہوں نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ الیکشن کے انعقاد پر رہنمائی کرے کیونکہ آئین میں یہ درج ہے کہ الیکشن کے وقت پورے ملک میں نگراں حکومت ہونی چاہئے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال اپریل میں عمران خان نے اپنی وزارت عظمیٰ کے خاتمے کے بعد قبل از وقت عام انتخابات کا مطالبہ کررکھا ہے اور اس مقصد کے لیے تحریک انصاف نے پنجاب وخیبرپختونخوا کی اپنی اکثریتی اسمبلیاں تحلیل کیں تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں