پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات: الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے دینے کا بل مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پنجاب اور خیبرپختونخو ا میں انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے دینے کا بل مسترد کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو 10 اپریل تک 21 ارب روپے فراہم کیے جائیں۔ تاہم مذکورہ ڈیڈ لائن گزر جانے کے باوجود حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کو رقم فراہم نہیں کی گئی۔

اس حوالے سے جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس مسلم لیگ (ن) کے رُکن قومی اسمبلی قیصر احمد شیخ کی زیرِ صدارت ہوا۔

اجلاس کے دوران وزیرِ مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے بتایا کہ پہلے سے مختص شدہ فنڈز کے علاوہ فنڈز جاری کرنا عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ حکومت اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ ایک انتہائی مشکل معاہدہ کرنے پر مجبور ہے اور ایسے میں اضافی فنڈز جاری کرنا ممکن نہیں ہے۔

وزیرِ مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ آئی ایم ایف کے سخت پروگرام کی وجہ سے خسارے کا سامنا ہے۔

بعد ازاں قائمہ کمیٹی نے کثرتِ رائے سے بل مسترد کر دیا۔

وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے پیر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں الیکشن کمیشن کو فنڈز فراہم کرنے کا بل پیش کیا تھا، تاہم دونوں ایوانوں کے اجلاس اسی روز ملتوی کر دیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی سپریم کورٹ میں یہ رپورٹ جمع کرائی تھی کہ متعلقہ حکام نے انتخابات کے انعقاد کے لیے 10 اپریل تک فنڈز جاری نہیں کیے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے چار اپریل کو دیے گئے فیصلے میں پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کے اعلان کے ساتھ ساتھ حکومت کو پابند کیا تھا کہ وہ 10 اپریل تک الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے جاری کرے۔

لیکن وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا تھا۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی میں ایک قرارداد بھی منظور کی گئی تھی جس میں وفاقی کابینہ سے کہا گیا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں