کراچی ایکسپریس ٹرین میں آتش زدگی سے 7 افراد جاں بحق، وزیر ریلوے کا نوٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خیرپور کے قریب کراچی سے لاہور جانے والی کراچی ایکسپریس کی بوگی میں آگ لگنے کے باعث 7 افراد جاں بحق ہو گئے جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

ریلوے حکام کے مطابق ٹنڈو مستی اور خیرپور کے درمیان کراچی سے لاہور جانے والی کراچی ایکسپریس کی بزنس کلاس کوچ نمبر 17 میں 26 اور 27 اپریل کی درمیانی شب ساڑھے 12 بجے آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی جس پر فوری طور پر گاڑی کو ٹنڈو مستی خان اسٹیشن کے قریب روک لیا گیا۔

آتشزدگی کے باعث خاتون اور 3 بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق ہو گئے۔

ہنگامی طور پر فائر بریگیڈ کو اطلاع دی گئی جس کی پہلی گاڑی رات ایک بج کر 50 منٹ تک موقع پر پہنچی اور تقریباً 40 منٹ کی تگ و دو کے بعد آگ پر قابو پایا گیا۔

ڈی سی او ریلوے محسن سیال کے مطابق 70 سالہ خاتون رابعہ بی بی نے جان بچانے کے لیے متاثرہ بوگی سے چھلانگ لگا دی تھی جس کے باعث وہ شدید زخمی ہوئیں اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسیں۔

وزارت ریلوے سے جاری بیان کے مطابق ایک شخص بوگی کے اندر ہی جھلس کر جاں بحق ہوا جس کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی، ان کے علاوہ مرنے والوں میں 3 بچے بھی شامل ہیں جن کی لاشیں بھی بوگی کے اندر سے ہی ملیں۔

حادثے میں جاں بحق ہونے والے چار بچوں اور خاتون کا تعلق ایک ہی خاندان سے بتایا جاتا ہے۔

حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد ڈی ایس سکھر، ڈی سی او سکھر اور دیگر ریلوے افسران موقع پر موجود رہے اور صورتحال کی نگرانی اور وزارت میں رپورٹ کرتے رہے۔

کراچی ایکسپریس سے متاثرہ کوچ کو علاحدہ کرنے کے بعد صبح پونے 7 بجے جانب منزل روانہ کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ وزارت ریلوے نے بوگی میں آگ لگنے کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

ریلوے حکام کے مطابق اس ضمن میں فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلویز کی سربراہی میں ٹیم جائے وقوعہ پہنچی جس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حادثے کی وجوہات سے میڈیا کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں