’’امسال سرکاری اسکیم کے تحت حج کرنے والوں سے قربانی کی اضافی رقم نہیں لی جائے گی‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

وفاقی وزیر مذہبی امور سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا ہے کہ حج 2023 کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ عازمین حج کو سہولتیں مہیا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے، سرکاری اسکیم کے تحت جانے والے عازمین قربانی کے لیے اضافی رقم ادا نہیں کریں گے۔اس کے لیےطریق کار وضع کر لیاگیا ہے۔

وفاقی وزیر مذہبی امور نے اتوار کوایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انھیں وزارت کا قلم دان سنبھالے ایک مہینہ ہوا ہے ، حج 2023 کے حوالے سے بعض امور تاخیر کا شکار تھے مگر دن رات محنت کر کے تمام تر انتظامات اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا یا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ سال سرکاری کوٹے کے تحت 34 ہزار اور پرائیوٹ اسکیم کے تحت 47 ہزار عازمین نے فریضہ حج کی سعادت حاصل کی تھی، اسی طرح دنیا بھر سے 8 لاکھ 50 ہزار افراد حج کے لیے آئے تھے۔ اس سال صورت حال مختلف ہے، رواں سال پوری دنیا سے 20 لاکھ افراد فریضہ حج کی سعادت حاصل کریں گے جبکہ 10 لاکھ کے قریب سعودی عرب سے مقامی لوگ بھی ہوں گے، اس لیے گذشتہ سال کی طرح رواں سال حج مشکل ہوگا۔تاہم میں یقین دلاتا ہوں کہ انتظامات اور سہولیات کے حوالے سے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ رواں سال پاکستان کو ایک لاکھ 79 ہزار حاجیوں کا کوٹاملا ہے، 85 ہزار عازمین سرکاری اور 89 ہزار نجی شعبے کے تحت حج ادا کریں گے۔انھوں نے کہا کہ حج کے لیے انتظامات کے حوالے سے دن رات محنت کی گئی ہے، وزارت کا عملہ مسلسل مصروف ہے، ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔میڈیا کسی بھی کمی کی نشان دہی کرے،اس کا ازالہ کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس سال حج کے لیے اخراجات 11 لاکھ 75 ہزار روپے تھے، ہم نے کوشش کی ہے کہ اس میں کمی لائی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں