پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے 26 مئی کو وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کو اپنی پریس کانفرنس میں سراسر غلط، بے بنیاد، جھوٹی، گمراہ کن،بدنیتی پر مبنی اور ہتک آمیز معلومات پھیلانے پر ہتک عزت کا نوٹس بھیجا ہے۔
گذشتہ ہفتے وزیرصحت عبدالقادر پٹیل نے حکومت کی جانب سے عمران خان کے طبی ٹیسٹوں کی خفیہ رپورٹس شیئر کی تھیں۔ان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی ٹانگوں میں کوئی فریکچر نہیں پایا گیا، جبکہ ان کے پیشاب کے نمونے میں شراب اور غیر قانونی منشیات کے ذرّات پائے گئے اور ان کی ذہنی حالت مشکوک ہے۔
ہتکِ عزت کے نوٹس میں عمران خان نے قادر پٹیل سے کہا ہے کہ وہ اپنے بیانات کو اسی انداز میں واپس لیں جس انداز میں انھیں پیش کیا تھا اور غیر مشروط معافی مانگیں اور تسلیم کریں کہ آپ نے غلط بیانی کی ہے۔
نوٹس میں وفاقی وزیر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عمران خان کو بدنام کرنے اور ان پر جھوٹے الزامات عاید کرنے پر10 ارب روپے بہ طور ہرجانہ ادا کریں اور یہ رقم شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال اور ریسرچ سنٹر کو عطیہ کردی جائے گی۔اس میں قادر پٹیل پرزوردیا گیا ہے کہ وہ اس قسم کے مزید ہتک آمیز تبصرے کرنے سے گریز کریں۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر وزیرِصحت 15 روز میں ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو عمران خان ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔