’فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات شروع ہی نہیں ہوئے،حکمِ امتناع کی استدعا مسترد‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں پر مقدمات چلانے سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران میں فوجی عدالتوں کے خلاف حکم امتناع کی استدعا اٹارنی جنرل کی یقین دہانی پر مسترد کردی ہے۔پاکستان کے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے خلاف مقدمات کی سماعت ابھی شروع نہیں ہوئی ہے۔

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ، معروف قانون دان اعتزاز احسن اور سول سوسائٹی کی جانب سے عام شہریوں کے مقدمات آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ کی چھے رکنی بینچ نے سماعت کی۔ یہ چھے رکنی لارجر بینچ عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس عمرعطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سیّد مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل ہے۔

ایک روز قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل احمد شریف چودھری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 9 مئی کو تشدد کے ملزموں اور سہولت کاروں کو احتساب کے کٹہرے میں لانے کے لیے فوجی عدالتیں ناگزیر ہیں۔

گذشتہ روز سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت کے دوران میں جسٹس منصور علی شاہ حکومت کے اعتراضات کے بعد بینچ سے الگ ہوگئے تھے اور چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ انھیں امید ہے کہ 9 مئی کو تشدد کے ملزم کسی بھی شخص کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں شروع نہیں ہوگا جب تک کہ سپریم کورٹ اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔

آج کی سماعت میں موجود وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے خلاف مقدمات چلانے پر حکم امتناع جاری کیا جائے۔اس پراٹارنی جنرل نے عدالت میں بتایا کہ ’’ابھی تک کوئی ٹرائل شروع ہی نہیں ہوا ہے اور اس میں وقت لگتا ہے۔ ملزمان کے پاس پہلے وکیلوں کی خدمات حاصل کرنے کا وقت ہوگا اور ٹرائل شروع ہونے سے پہلے تحقیقات کی نقول بھی انھیں فراہم کی جائیں گی‘‘۔

تاہم وکلاء نے عدالت سے کہا کہ وہ اٹارنی جنرل کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنائیں کیونکہ یہ ایک دن قبل فوج کے ترجمان کے بیان کے برعکس ہے۔بعد ازاں عدالت نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات کی سماعت روکنے سے متعلق حکم امتناع جاری کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ملزمان آج اپنے اہل خانہ سے بات کریں۔اگر کچھ ہو جائے تو مجھے فوراً آگاہ کریں۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دلایا کہ ٹرائل فوری طور پر شروع نہیں ہو رہے ہیں۔ ہم اس کو مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔چیف جسٹس نے اس پر کہا کہ اب درخواستوں کی مزید سماعت اگلے ہفتے عید کے بعد دوبارہ شروع ہوگی۔انھوں نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ زیرحراست افراد کا خیال رکھیں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت غیر معیّنہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

سماعت کے آغاز پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے بھی اس معاملے پر درخواست دائر کی ہے اور انھیں اپنے دلائل پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں خوشی ہے، سپریم کورٹ بار کی جانب سے درخواست آئی ہے، ہم اچھے دلائل کا خیر مقدم کریں گے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے عابد زبیری کو اپنے دلائل تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت بعد میں درخواست پر واپس آئے گی۔

بعد ازاں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل دوبارہ شروع کیے اور کہا کہ ایک عام شہری کا کورٹ مارشل نہیں کیا جا سکتا۔ فوج کی جانب سے گذشتہ روز کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چودھری نے کہا تھا کہ 102 افراد پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے گا۔تاہم اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے وضاحت کی کہ میں کل سے جو کَہ رہا ہوں،اس پر قائم ہوں کہ 102 افراد پر فی الوقت مقدمہ نہیں چلایا جا رہا ہے۔

سوموار کوسماعت کے دوران میں اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ حراست میں لیے گئے 102 افراد کے مقدمات تفتیش کے مرحلے میں ہیں اور امکان ہے کہ یہ تعداد کم ہوسکتی ہے کیونکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ان کے مقدمات کو عام عدالتوں میں بھیجا جاسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں