پاکستانی پارلیمان میں سویڈن میں قرآن مجید کی بے حرمتی کے خلاف مشترکہ قراداد منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کی پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسیی جماعتوں نے سویڈن میں قران مجید کی بے حرمتی کے واقعے کے خلاف مشترکہ طور پر قرارداد منظور کی ہے۔اس میں اسلامی ممالک سے اس واقعہ کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پارلیمان میں قرارداد وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے پیش کی۔اس پر تمام پارلیمانی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں کے دست خط ہیں اور اسے مشاورت کے بعد ایوان میں پیش کیا گیا تھا۔

قراردادمیں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے عمل کی شدید مذمت کرتا ہے۔ پارلیمان تمام مذاہب، عقائد اور ان کے مقدسات کے احترام پر یقین رکھتی ہے۔ یہ ایوان اس بات پر زور دیتا ہے کہ سویڈش حکام اس گھناؤنے واقعے میں ملوّث مجرموں کے خلاف مناسب اقدامات کریں۔ان میں قانونی کارروائی شامل ہے اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مستقبل میں ایسی کوئی حرکت نہ ہو۔

قرارداد میں اس بات پر زوردیا گیا ہے کہ اسلامو فوبیا کے واقعات سے بھی اسی سنجیدگی سے نمٹا جائے جس طرح دوسرے مذاہب کے خلاف نفرت کے معاملے سے نمٹا جاتاہے۔اس میں متعلقہ بین الاقوامی تنظیموں اور ریاستوں پر زوردیا گیا ہے کہ مقدس الہامی کتب، شخصیات، عبادت گاہوں اور ان کے پیروکاروں کا احترام یقینی بنایا جائے۔

قرارداد میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے سفارشات مرتب کرنے اور مستقبل کی اجتماعی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے اسلامی تعاون تنظیم کا اجلاس طلب کیا جائے جائے۔

قبل ازیں سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف پارلیمان میں بحث کے لیے تحریک وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ریاض حسین پیرزادہ نے پیش کی تھی اور وزیراعظم شہبازشریف نے بحث کا آغاز کیا تھا۔بحث میں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض،مولانا اسعد محمود،احسن اقبال،سینیٹر شہزاد وسیم،یوسف رضا گیلانی،رضا ربانی، سینیٹر مشتاق احمد خان ،سینیٹر کامران مرتضیٰ اور دیگر اراکین نے اظہار خیال کیا۔

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن میں شامل جماعتوں نے سویڈن میں قرآن مجید کی بے حرمتی کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک مشترکہ اور موثر لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے امت مسلہ کے جذبات سویڈن کی حکومت تک پہنچائیں تاکہ آیندہ اسے مذموم واقعات رونما نہ ہوں۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو لائحہ عمل وضع کرنے کی ضرورت ہے۔یہ بحث ہر قسم کی تفریق سے بالاتر ہے ۔سویڈن میں انتہائی شرمناک مثال ہم نے دیکھی اس ایک حرکت سے پوری دنیا کے مسلمان تڑپ اٹھے۔ 15 مارچ کو اقوام متحدہ نے اسلاموفوبیا کا دن منانے کا فیصلہ کیا جو ہماری بڑی کامیابی تھی۔

سید یوسف رضا گیلانی نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ایسی حرکتوں سے وہ امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اگر یہ عمل نہیں روکا جائے گا تو اس کا اثر دنیا پر آئے گا۔ہمیں اس فورم پر اتفاق رائے سے ایک پالیسی مرتب کرنا چاہے۔

وزیرمواصلات مولانا اسعد محمود نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سویڈن واقعہ پر دنیا اور عالم اسلام کا ردعمل سامنے آیا ہے۔دنیا اس عمل کو انفرادی فعل قرار دیتی ہے، مگر اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے،کم ہے ۔ایم کیوایم کے صلاح الدین نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم دنیا میں امن سے رہنا چاہتے ہیں تو اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنا پڑیں گے اور کہا کہ یوم تقدیس قرآن کے موقع پر ساری قوم سڑکوں پر نکل آئے۔اسلام آباد،لاہور اور کراچی کی بڑی سڑکوں،شاہراہوں کو کچھ دیر کے لیے جام کر کے دنیا کو ایک متحدہ پیغام دیا جائے اور یک جہتی کا اظہار کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں