لاہور کی مقامی عدالت میں فائرنگ، خاتون سمیت دو افراد جاں بحق

لاہور ۔ ایجنسیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لاہور کی ایک مقامی عدالت کے احاطے میں جمعرات کے دن مسلح افراد نے مبینہ طور پر فائرنگ کرکے خاتون سمیت دو افراد کو قتل کردیا۔

پنجاب پولیس نے صوبائی دارالحکومت میں پیش آئے فائرنگ واقعے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کر دی۔

پنجاب پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق متاثرہ افراد کیس کی سماعت کے سلسلے میں احاطہ عدالت میں موجود تھے کہ مسلح حملہ آوروں نے ان پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں وہ دونوں فوری طور پر جان کی بازی ہار گئے۔

مقتولین کی شناخت صغرا بی بی اور محمد امین کے ناموں سے ہوئی، قتل کے محرکات کا تعین ہونا ابھی ہونا باقی ہے۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا کیا گیا کہ جرم کے بعد مبینہ مجرموں نے خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کر دیا، مہلک کارروائی میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

گرفتار ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے ایس پی سٹی کے دفتر منتقل کر دیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پولیس حملہ آوروں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ اس واقعے میں ملوث کسی ممکنہ رابطے یا ساتھیوں کا تعین کیا جا سکے۔

اس سے قبل انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے پولیس فورس کو ہدایت کی کہ ملزمان کو بلا تاخیر گرفتار کیا جائے۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان میں آئی جی پنجاب کا حوالہ دیتے ہوئے حملہ آوروں کو فوری طور پر پکڑنے اور دہرے قتل کے پیچھے کارفرما محرکات کا تعین کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے پر زور دیا گیا۔

عدالتی احاطے میں فائرنگ معمول

عدالتی احاطے میں پیش آیا قتل کا واقعہ کوئی واحد اور پہلا واقعہ نہیں ہے۔

رواں سال کے آغاز پر جنوری میں پشاور ہائی کورٹ کے بار روم میں اسی طرح کا فائرنگ ایک واقعہ پیش آیا تھا جہاں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور سینئر وکیل لطیف آفریدی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا، حملہ آور کو فائرنگ کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس طرح کا ایک اور واقعہ اسی ماہ کراچی سٹی کورٹ کے دروازے پر پیش آیا تھا جس میں 19 سالہ لڑکی کو پسند کی شادی کرنے پر اس کے والد نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں