لینڈ سلائیڈنگ اور بارشوں سے ایک ماہ میں 133 افراد جاں بحق
خیبرپختونخوا میں بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ سے کئی سڑکیں متاثر ، ٹریفک معطل
پاکستان میں شمالی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے کئی بڑی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔۔ بڑی تعداد میں سیاح پھنس گئے اور ٹریفک معطل ہوکر رہ گئی ہے۔ پیر کے روز حکام نے بتایا کہ گزشتہ ماہ 24 جون سے جاری موسم کی خرابی کے باعث حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد کم از کم 133 ہوگئی ہے۔ اس طرح بارشوں کے باعث ایک ماہ میں 133 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔
حالیہ دنوں میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے ہزاروں سیاح شمالی علاقوں کے قدرتی سیاحتی مقامات کی طرف آرہے ہیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے گزشتہ ہفتے لوگوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی تھی اور بتایا تھا کہ مون سون کی بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا امکان ہے۔
اتوار کے روز چترال، دیر اور پتگرام میں بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ سے کئی سڑکیں متاثر ہوئیں۔ صوبے کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ترجمان تیمور خان نے بتایا کہ پہاڑی علاقوں میں ٹریفک بحال کرنے کے لیے سڑکیں صاف کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
موسلا دھار بارشوں نے مشرقی پنجاب کے تین بڑے دریا جہلم، ستلج اور چناب میں طغیانی ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے سیلابی صورتحال کے لیے ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ تین ہفتوں میں سیلاب نے پہلے ہی کم از کم 15 ہزار افراد کو شدید متاثر کیا ہے۔
ملک بھر میں تباہ کن سیلاب سے 1739 افراد جاں بحق ہوگئے تھے اور اس کے بعد مون سون کی بارشوں نے تباہی مچانا شروع کردی ہے۔ مون سون موسم کا باضابطہ آغاز یکم جولائی سے ہوا تھا اور یہ ستمبر تک جاری رہے گا۔