پاکستان الیکشن کمیشن کا حلقہ بندیوں کا دفاع، ملک بھر میں انتخابات میں تاخیر کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 2023 کی مردم شماری کے نتائج کی منظوری کے بعد انتخابی حلقہ بندی کرنے کے اقدام کا دفاع کیا ہے جس سے ملک بھر میں عام انتخابات فروری تک مؤخر ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں عام انتخابات قومی اسمبلی کی تحلیل کے 90 دن بعد اس سال نومبر میں ہونے تھے۔ تاہم سبکدوش ہونے والی حکومت کے 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج کو منظور کرنے کے فیصلے کا مطلب ہے کہ انتخابی ریگولیٹر کو ان نتائج کے مطابق سینکڑوں حلقوں کی ازسر نو تشکیل کرنے کی ضرورت ہوگی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے رواں ہفتے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں 14 دسمبر تک وفاقی اور صوبائی حلقہ بندیوں کو حتمی شکل دینے کے منصوبے کا خاکہ پیش کیا گیا جس میں مؤثر طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90 دن کی روایتی مدت میں انتخابات نہیں ہوں گے۔

پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور عمران خان کی قیادت والی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے قومی اور صوبائی حلقوں کی ازسرِنو تشکیل کے لیے الیکشن ریگولیٹر کی اعلان کردہ ٹائم لائن مسترد کر دی ہے۔ لیکن ای سی پی کا کہنا ہے کہ وہ آئینی طور پر اس بات کا پابند ہے کہ "سرکاری طور پر شائع ہونے والی ہر مردم شماری کے بعد حلقہ بندی کی جائے۔"

ریگولیٹر نے جمعہ کو ایک تحریری حکم میں کہا۔ "آرٹیکل 218(3) میں مذکور انتظامات صرف ڈی آر اوز، آر اوز، اے آر اوز کی تقرری، بیلٹ پیپرز کی اشاعت تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس میں آرٹیکل 219(اے) کے اعتبار سے تازہ ترین انتخابی فہرستوں کی تیاری اور حلقہ بندی بھی شامل ہے۔"

اس حکم میں کہا گیا ہے۔ "کمیشن یہ اختیار رکھتا اور فیصلہ کرتا ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے پہلے 2023 میں باضابطہ طور پر شائع ہونے والی سابقہ مردم شماری کی بنیاد پر نئی حلقہ بندی کرنا قانون کا لازمی تقاضا ہے جو الیکشنز ایکٹ 2017 کی شق 17(2) میں درج ہے۔ یہ آئین کی شق 218(3) کے تحت فرض کی تکمیل کو یقینی بنانے اور ووٹرز، سیاسی جماعتوں اور انتخابی امیدواروں کو ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے حقیقی نمائندگی فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔"

پاکستان کی قومی اور دو صوبائی اسمبلیاں گذشتہ ہفتے اپنی پانچ سالہ میعاد ختم ہونے سے کچھ دیر قبل تحلیل کر دی گئیں۔ اس کے بعد ملک میں ایک نگراں حکومت کا تقرر کیا گیا تھا تاکہ آئینی طور پر مقررہ مدت کے اندر آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے لیکن حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابات میں تاخیر ہو جائے گی۔

پی ٹی آئی جو اپریل 2022 میں عمران خان کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سے قبل از وقت انتخابات کی وکالت کرتی رہی ہے، نے جمعہ کو اس بات پر زور دیا کہ 14 دسمبر کے بعد پولنگ کے شیڈول کے اعلان کا ای سی پی کا فیصلہ "نگران حکومت کی مدت کو طول دینے کی مجرمانہ کوشش" اور آئینی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ اس نے حلقہ بندی کے لیے درکار مردم شماری کے تازہ ترین نتائج کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا عزم کیا۔

اس میں کہا گیا کہ "[پی ٹی آئی] لوگوں کو آئین کے مطابق ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی سازشوں کا مقابلہ کرے گی۔"

پیپلز پارٹی جو سابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سبکدوش ہونے والی اتحادی حکومت کا حصہ تھی، نے بھی جمعرات کو ای سی پی کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نئی حلقہ بندیوں کی ازسرِنو تشکیل "کوئی آئینی تقاضہ نہیں" ہے۔

پی پی پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے ایکس میسجنگ پلیٹ فارم پر لکھا، "پی پی پی آئین کے مطابق انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ حلقہ بندیوں کی تشکیل کوئی آئینی تقاضہ نہیں ہے لیکن 90 دن کے اندر انتخابات کروانا آئینی تقاضہ ہے۔"

یہ پیش رفت جنوبی ایشیائی ملک میں ایک گہرے سیاسی بحران کے درمیان ہوئی ہے جو گذشتہ سال عمران خان کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد شروع ہوا تھا۔ سابق وزیرِ اعظم کو رواں ماہ کے شروع میں بدعنوانی کے ایک مقدمے میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور وہ اس وقت مشرقی پنجاب کی سخت سیکیورٹی والے اٹک جیل میں قید ہیں۔

ان کی سزا کا مطلب ہے کہ وہ عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے کیونکہ مجرمانہ سزا پاکستانیوں کو پارٹی کی قیادت کرنے، انتخابات میں حصہ لینے یا عوامی عہدہ رکھنے سے روکتی ہے۔ خان نے سزا کے خلاف اپیل کی ہوئی ہے۔

آزاد تجزیہ کاروں نے خان کی مسلسل قید کی وجہ سے آئندہ انتخابات کی ساکھ کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے کیونکہ مدلل طور پر ان کی حیثیت ملک کی نمایاں ترین سیاسی شخصیت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں