صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے علاقے جانی خیل میں پاک فوج کے ایک قافلے پر خودکش حملے میں نو فوجی اہلکار شہید اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جمعرات کو فوجی قافلے پر موٹر سائیکل پرسوار خودکش بمبار نے حملہ کیا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔اس کے نتیجے میں نائب صوبیدار صنوبر علی سمیت نو فوجی شہید اور پانچ فوجی زخمی ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور علاقے میں موجود دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں اور ہمارے بہادرجوانوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے پاک فوج کے قافلے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے جوانوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ بنوں ڈویژن، کے پی میں دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائی میں 9 بہادر جوانوں کی شہادت پر انھیں دلی دکھ ہوا ہے۔
وزیراعظم نے اس طرح کے واقعات کو انتہائی قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی دلی ہمدردیاں اور جذبات شہداء اور زخمیوں کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اس طرح کی دہشت گردی کے خلاف پرعزم ہے۔
Heartbroken by the loss of 9 valiant soldiers in Bannu Division, KPK, to a cowardly terrorist act that injured many. Such acts are utterly reprehensible. My thoughts are with the families of the martyred and injured. 🇵🇰 stands resolute against such terror.
— Anwaar ul Haq Kakar (@anwaar_kakar) August 31, 2023
واضح رہے کہ گذشتہ سال نومبر میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کے بعد حالیہ مہینوں میں ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پرصوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں آئے دن سکیورٹی فورسز کو بالخصوص دہشت گردی کے حملوں میں نشانہ بنایا جارہا ہے۔
پاک فوج کے میڈیا ونگ نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ 22 اگست کو شمال مغربی ضلع جنوبی وزیرستان میں فائرنگ کے تبادلے میں چھے فوجی شہید ہوئے تھے جبکہ چار دہشت گرد مارے گئے تھے۔گذشتہ ماہ بلوچستان کے علاقوں ژوب اور سوئی میں مختلف کارروائیوں میں پاک فوج کے 12 جوان شہید ہوئے تھے۔
یہ رواں سال دہشت گردی کے حملوں میں فوج کا ایک دن میں سب سے زیادہ جانی نقصان تھا۔ اس سے قبل فروری 2022 میں بلوچستان کے ضلع کیچ میں ایک کارروائی کے دوران میں 10 اہلکار شہید ہوئے تھے۔