پاکستان میں ذیابیطس کے دسیوں مریض آلودہ دوا کے استعمال کے بعد بینائی سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان میں حالیہ دنوں میں ذیابیطس کے دسیوں مریض ایک آلودہ دوا کے استعمال کے بعد بینائی سے محروم ہوگئے ہیں۔

پولیس اور صحت کے حکام کے مطابق اس دوا کی سپلائی کرنے والے دو افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور 12 سرکاری انسپکٹروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ دوا مضر صحت ماحول میں پیک کی گئی تھی۔

پنجاب کے محکمہ صحت کے ترجمان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب تک اس دوا کا ٹیکا صوبے میں 68 مریضوں کی بینائی کو بری طرح متاثر کر چکا ہے۔ان میں 12 افراد نے مکمل طور پر نابینا ہونے کی اطلاع دی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ انفیکشن کے مکمل علاج کے بعد ہی ہم اس ٹیکے سے ہونے والے نقصان کی حقیقی حد کا اندازہ لگا سکیں گے۔

سوئس دوا ساز کمپنی روشے کی مہیّا کردہ دوا ایواسٹین بنیادی طور پر کینسر کے علاج کے لیے تجویز کی جاتی ہے۔تاہم پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کواس کا ’آف لیبل‘ ٹیکا لگایا جاتا ہے تاکہ آنکھوں میں غیر معمولی شریانوں کی نشوونما کو روکا جا سکے۔

اس کا ٹیکا 100 ملی گرام کی خوراک میں آتا ہے ، لیکن اسے پاکستان میں آنکھوں کے بعض عوارض کے علاج کے لیے کم لاگت کے آپشن کے طور پر چھوٹی خوراکوں میں تقسیم کیا جاتا اور مقامی طور پردوبارہ پیک کیا جاتا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں روشے کی ترجمان کارسٹن کلائن نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ دوا آنکھوں میں کسی بھی طرح کے استعمال کے لیے منظورشدہ نہیں ہے۔

کلین نے ایک بیان میں کہا کہ روشے کمپنی جعل سازی کے اس مجرمانہ فعل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور مریضوں کو جعلی ادویہ سے بچانے کے لیے حکام کے ساتھ تعاون کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔

پنجاب کی وزارت صحت نے اب آنکھوں کے علاج کے لیے اس دوا کے استعمال پر پابندی عاید کردی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ہر چارمیں سے ایک بالغ شخص ذیابیطس کا شکار ہے۔اس بیماری کی یہ دنیا میں سب سے زیادہ شرح میں سے ایک ہے۔اس کی بڑی وجہ ورزش کی کمی اور زیادہ شکر والی غذائیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں