چوتھی بار وزیراعظم بننے کی امید کے ساتھ چار سال بعد نواز شریف لندن کا سفر واپسی شروع

سعودی عرب پہنچ گئے ۔ 18 اکتوبر کو دبئی اور 21 کو پاکستان آنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سابق وزیر اعظم پاکستان اور مسلم لیگ نواز کے خود ساختہ جلاوطن رہنما میاں نواز شریف چار سال بعد وطن واپسی کے سفر کے پہلے مرحلے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔

وہ سعودی عرب سے متحدہ عرب امارات پہنچیں گے جہاں سے 21 اکتوبر ایک خصوصی پرواز کے ذریعے پاکستان روانہ ہوں گے۔

اپنے پلیٹس لیٹس کی کمی کے عارضے کے علاج کے لیے ایک ائیر ایمبولینس پر نومبر 2019 میں لندن گئے تھے۔ میاں نواز شریف اس وقت پاکستان کی ایک جیل میں سزائے قید کاٹ رہے تھے، مگر اچانک بیماری کی خبریں سامنے آنے کے انہیں نہ صرف جیل سے ہسپتال منتقل کر دیا بلکہ عدالت کی طرف سے ایک غیر معمولی سہولت اور ریلیف دے کر انہیں آٹھ ہفتوں کے لیے لندن جانے کی اجازت دی تھی۔

میاں نواز شریف کی علاج کے بعد وطن واپسی اور خود کو قانون کے حوالے کرنے کے حوالے سے عدالت میں ضمانت نامہ بھی جمع کرایا تھا۔ تاہم وہ اب چار سال کے بعد پاکستان واپس آنے کا اعلان کر چکے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے 21 اکتوبر کی تاریخ مقرر کر رکھی ہے۔

میاں نواز شریف اس سے قبل تین بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں ۔ مگر انہیں 2017 میں کرپشن الزامت کے تحت چلنے والے ایک مقدمے میں سزائے قید سنا دی گئی تھی اور سیاست کے لیے تاحیات نااہل قرار دے دیا تھا۔

اب اپنے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف کے زیر قیادت بارہ تیرہ جماعتی اتحاد کی حکومت کی طرف سے تیز رفتار کی گئی قانون سازی کے بعد انہں امید لگ گئی ہے کہ وہ پاکستان آکر نہ صرف جیل جانے سے بچ جائیں گے بلکہ آنے والے عام انتخابات میں انہیں حصہ لینے کی عدالت اجازت دے دے گی اور ان کے چوتھی بار وزارت عظمیٰ تک پہنچنا ممکن ہو جائے گا۔

جہاں آجکل پاکستان کی فوج سیاست میں مداخلت اور اے پولیٹیکل ہونے کی بات کر رہی ہے۔ اسی طرح میاں نواز شریف جنہوں نے پاکستان واپسی سے پہلے پاکستان کے دو سابق جرنیلوں اور عدلیہ کے اہم ججوں کے احتساب کا نعرہ لگایا تھا تاکہ ملک میں اپنے کچھ سال پرانے بیانیے کے مطابق ووٹ کو عزت دلوا سکیں۔ اب وہ بھی اس بارے میں اپنا موقف تبدیل کر چکے ہیں۔

اب لندن سے سعودی عرب روانگی کے بعد امکان ہے کہ وہ 18 اکتوبر کو مملکت سے دبئی پہنچیں گے جہاں سے تیسرے روز پاکستان روانہ ہو ں گے تاکہ اپنے سیاسی مستقبل کی آخری کوشش کر سکیں۔

ان کی پاکستان کے لیے جس خصوصی طیارے میں روانگی ہوگی اسے 'امید پاکستان' کا نام دیا گیا ہے۔ اس امید پاکستان کا ٹائیٹل پانے والے طیارے میں 150 کے قریب دیگر افراد میاں نواز شریف کے ساتھ سفر کریں گے۔

ان میں ان کی جماعت کے بعض رہنماون کے علاوہ ان کے ڈاکٹر اور میڈیا اور سوشل میڈیا سے وابستہ افراد بڑی تعداد میں شامل ہوں گے۔ واضح رہے میاں نواز شریف کی طویل عرسے بعد ایک میڈیکل رپورٹ چند دن پہلے ہی عدالت میں جمع کرائی گئی تھی۔
پاکستان میں پہلے ان کے شاندار استقبال کی کوشش تھی لیکن ملک میں سیاسی مقبولیت کی ایک خاص لہر کی وجہ سے اب ان کی جماعت کا سارا زور مینار پاکستان کے میدان میں ایک بڑے اور جاندار جلسے کے انعقاد پر ہوگا

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں