گرجا گھروں کی مرمت اور سانحۂ جڑانوالہ کے مسیحی متأثرین کو معاوضہ ادا کر دیا گیا
مذہبی ہم آہنگی کے فروغ اور ملتے جلتے واقعات کے انسداد کے لیے اقدامات کیے
حکام نے جمعرات کو بتایا کہ حکومت نے پاکستان کے وسطی قصبے میں اگست میں عیسائیوں کے خلاف ہجومی حملے کے دوران تباہ ہونے والے 20 سے زیادہ گرجا گھروں کی مرمت کر دی ہے اور متأثرہ خاندانوں میں 20 لاکھ روپے فی خاندان تقسیم کیے ہیں۔
کئی عشروں میں فرقہ وارانہ تشدد کا یہ بدترین واقعہ تھا جو 16 اگست کو جڑانوالہ شہر میں اس وقت پیش آیا جب دو مسیحی افراد پر قرآن پاک کی بے حرمتی کا الزام لگایا گیا۔
حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے زیادہ تر گرجا گھروں کی مرمت کر دی ہے اور تقریباً 80 خاندانوں کو زرِ تلافی دیا ہے جن کے گھروں کو مشتعل ہجوم کے ہاتھوں نقصان پہنچا تھا۔
حکومت کے زیرِ اہتمام غیر ملکی صحافیوں کے شہر کے دورے کے دوران فیصل آباد کے ڈپٹی کمشنر عبداللہ نیئر شیخ نے عرب نیوز کو بتایا، "مجموعی طور پر تقریباً 22 گرجا گھر متأثر ہوئے تھے اور حکومت نے ان سب کو بحال کرنے کے لیے 124 ملین روپے [$443,649] خرچ کیے ہیں۔"
حکومت نے اب تک 80 متأثرہ خاندانوں میں ہر خاندان کے سربراہ کو 20 لاکھ روپے ادا کر کے 160 ملین روپے [$572,450] تقسیم کیے ہیں۔"
عرب نیوز آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ وعدہ شدہ معاوضہ ادا کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا، "محکمۂ تعمیرات کے ساختی حفاظتی معیارات اور مسیحی برادری کے اطمینان دونوں کو پورا کرنے کے لیے کئی گرجا گھروں کو وسیع پیمانے پر تعمیرِ نو کی ضرورت تھی۔ ہم نے اضافی سہولیات فراہم کیں جن میں آلاتِ موسیقی، سی سی ٹی وی کیمرے، ایئر کنڈیشنر اور دیگر ضروری سہولیات شامل ہیں جن کی پہلے کمی تھی۔"
شیخ نے کہا کہ حکام نے ہجومی حملے کے فوراً بعد ایک امدادی کیمپ قائم کیا جس نے 52 خاندانوں کو پناہ دی تھی اور ایک عارضی اسکول بنایا۔
انہوں نے مزید کہا، "جب تک بجلی، پانی اور گیس بحال نہ ہوئی، ہم نے ان خاندانوں کو کھانا پہنچایا اور امدادی سامان فراہم کیا جس میں ان کے گھروں کو چلانے کے لیے مختلف اشیاء شامل تھیں مثلاً تولیے، کمبل حتیٰ کہ بچوں کے لیے کھلونے، اور اسکول کے بچوں کے لیے صفائی کی کٹس اور ہر چیز۔"
فیصل آباد کے سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد علی ضیاء نے بتایا کہ ایک سینئر اہلکار کی سربراہی میں ایک سرگرم ٹیم اس کیس کی تحقیقات کر رہی تھی جس میں 300 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے کہا، "ان گرجا گھروں کے لیے بائیس ایف آئی آر [پولیس شکایات] درج کی گئی ہیں اور اب تک 300 سے زیادہ لوگ گرفتار ہو چکے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ مزید تشدد کو روکنے کے لیے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔
ضیاء نے کہا کہ جڑانوالہ کے مسلمان رہائشیوں نے پیشکش کی کہ گرجا گھروں کی بحالی تک مسیحی ان کی مساجد استعمال کریں جبکہ پولیس نے پنجاب بھر میں 57 مراکز قائم کیے تھے تاکہ زیادہ معاشرتی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کی غرض سے بین المذاہب اقدامات پر کام کیا جائے۔
علاقے کے بشپ میجر معشوق مسیح نے تصدیق کی کہ حملے کے بعد 22 گرجا گھروں کو بحال کر دیا گیا تھا اور کہا کہ برادری کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ضلع فیصل آباد کے بین المذاہب مرکز میں پانچ مسیحی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ حکام نے جس زرِ تلافی کا کہا تھا وہ ادا کر دیا گیا ہے۔
مسیح نے مزید کہا، "انتظامیہ نے ہمارے پادریوں اور لاٹ پادریوں کو نمازِ جمعہ کے دوران مساجد میں اور مولانا [مسلم مذہبی رہنماؤں] کو گرجا گھروں میں مدعو کیا تاکہ دونوں برادریوں کے درمیان اچھے تعلقات کو فروغ دیا جا سکے۔"
لیکن مسیحی برادری کے ارکان نے کہا کہ حکومت کی کوششوں کے باوجود اگست کے حملے کے صدمے پر قابو پانا مشکل تھا۔
ہجوم کے حملے کی عینی شاہد حنا شہباز نے عرب نیوز کو بتایا، "حکومت نے جو کچھ کیا ہے اس لحاظ سے سب ٹھیک ہے۔ لیکن پھر بھی ایسے لمحات آتے ہیں جب ہمیں خوف ہوتا ہے کہ ایسا ہی کوئی واقعہ دوبارہ رونما ہو سکتا ہے۔"
انہوں نے تصدیق کی کہ حکومت نے ان کے خاندان کو ہنگامہ آرائی کے دوران ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے 20 لاکھ روپے دیئے۔
انہوں نے یاد کیا۔ "جب یہ واقعہ پیش آیا تو میں گھر پر تھی۔ ہمارے والد [پادری] نے ہمیں رہائش گاہ چھوڑنے کے لیے بلایا۔ اس وقت ہم نے ایک وین والے کو اضافی رقم ادا کر کے فیصل آباد [شہر] کا سفر کیا کیونکہ بس سروس بھی بند تھی۔"