پاکستان اور متحدہ عرب امارات کا غزہ تنازع پر تبادلۂ خیال

اسرائیلی فضائی حملوں کے درمیان 'مربوط جواب' کی تلاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سفارت کاروں نے ہفتے کے روز ایک فون کال پر غزہ میں جاری غضبناک تنازعے پر تبادلۂ خیال کیا اور حماس کے اس بیان کے بعد "مربوط ردِعمل" پر زور دیا کہ گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں چار غیر ملکیوں سمیت نو اسیران ہلاک ہوئے۔

ایک ہفتہ قبل حماس کی طرف سے حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ کے رہائشی محلوں کو نشانہ بنانے کے لیے جنگی طیارے تعینات کر دیئے جس میں کئی سو افراد کی جانیں گئیں۔

حماس نے غزہ میں حالاتِ زندگی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے حملے کا جواز پیش کیا جہاں 2.3 ملین فلسطینی 2006 سے اسرائیل کی زمینی، فضائی اور سمندری ناکہ بندیوں کے تحت زندگی گذار رہے ہیں۔

پاکستان کے عبوری وزیرِ خارجہ جلیل عباس جیلانی نے متحدہ عرب امارات کے ہم منصب سے فون پر بات کی اور "دشمنی کے خاتمے" کا مطالبہ کیا۔

جیلانی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا، "متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید کا فون آیا۔ ہم نے غزہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، دشمنی کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کی فوری ضرورت پر تبادلۂ خیال کیا۔"

انہوں نے مزید کہا، "ایک مربوط جواب پر زور دیا گیا۔"

اسرائیلی فوج نے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے اور زمینی حملے سے قبل اس کے لاکھوں باشندوں کو انخلاء کا حکم دیا ہے۔

اقوام متحدہ نے ایک روز قبل ہی اسرائیل کے حکام سے کہا تھا کہ وہ مسلسل فضائی بمباری کے دوران 1.1 ملین افراد کو شمال سے جنوبی غزہ منتقل کرنے کا حکم واپس لے۔

اسرائیل نے اب پانی، بجلی اور خوراک کی سپلائی منقطع کر دی ہے جس سے فلسطینی سرزمین پر پہلے ہی سے انسانی بحران پیدا ہو رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں