سعودی عرب، یواےای سمیت 14 ممالک کے شرکاء کے ساتھ پاکستان میں فضائی جنگی مشقیں جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاک فوج نے کہا کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے جمعرات کو ملک کے ایک آپریشنل فضائی مرکز پر جاری انڈس شیلڈ فضائی مشق کا مشاہدہ کیا جہاں انہوں نے فضائی جنگ میں فضائیہ کے سپاہیوں کی مہارت کی تعریف کی۔

یہ مشق جس کا مقصد فضائی جنگ کے جدید تصورات کو مستحکم کرنا، باہمی تعاون اور معلومات کے استعمال اور تبادے کی اہلیت کو فروغ دینا ہے، اس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، قطر، ترکی، مصر، عمان، بحرین، آذربائیجان، انڈونیشیا، مراکش، ازبکستان، چین اور ہنگری بھی شریک ہیں۔

آرمی چیف کی آمد پر پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے ان کا استقبال کیا اور غیر ملکی معززین اور پی اے ایف کے پرنسپل اسٹاف افسران کا ان سے تعارف کرایا۔ ترکی، آذربائیجان اور ہنگری کی فضائیہ کے سربراہان بھی معزز مہمانوں میں شامل تھے۔

پاکستانی فوج کے میڈیا ونگ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جنرل منیر نے فضائی جنگ کی ابھرتی ہوئی حرکیات کے درمیان مشترکہ مقاصد کے حصول میں کثیر القومی فضائی مشقوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا، "انہوں نے مشق کے شرکاء کی پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی اور جدید ترین سہولیات اور اس قدر بڑے پیمانے پر فضائی مشق کو ترتیب دینے میں کلیدی کردار ادا کرنے پر ایئر پاور سنٹر آف ایکسی لینس کی دلی تعریف کی۔"

"جنرل سید عاصم منیر نے اعتراف کیا کہ مرکز کی مہارت اور لگن نے انتہائی ہنرمند اور ماہر فضائی جنگجوؤں کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے جو جدید جنگ کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔"

مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، خلائی اور خصوصی اختراعات کے شعبوں میں سمارٹ انڈکشنز اور جدید ترین ٹیکنالوجیز کو شامل کرنے کے لیے پاک فضائیہ کے سربراہ کا جو وژن ہے، انہوں نے اس کی حمایت کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

پی اے ایف کے زیرِ اہتمام منعقدہ انڈس شیلڈ کا مقصد اتحادی ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دے کر علاقائی سلامتی کو تقویت دینا ہے۔ یہ مشق آپریشنل صلاحیتوں کو بڑھانے، باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے اور امن و استحکام کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتی ہے۔ اس کے علاوہ جدید اور خلل ڈالنے والی ٹیکنالوجیز کے ذریعے اپنی فضاؤں کو محفوظ بنانے کے لیے پی اے ایف کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

مشق کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ایئر چیف سدھو نے کہا کہ مشق نے شریک فضائی افواج کو اپنی بے مثال مہارت اور آپریشنل صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا ایک منفرد موقع فراہم کیا۔ انہوں نے پی اے ایف کے ایئر پاور سینٹر آف ایکسی لینس کےمتحرک کردار کو سراہا جو اس نے فوجی ترتیب کی بڑی مشق کو کامیابی سے تشکیل دینے، فضائی جنگی مشنوں کی باریک بینی سے نگرانی، طرزِ عمل، تجزیہ اور جائزے کو یقینی بنانے کے لیے ادا کیا۔

انہوں نے کہا، "فضائی مشن کی کامیاب تکمیل کے لیے جنگی کارکردگی کے تمام اجزاء کے مؤثر استعمال کی ضرورت ہوتی ہے بشمول الیکٹرانک جنگی کارروائیاں، قوت بڑھانے والے اور معاون عناصر۔"

"ایئر پاور سینٹر آف ایکسی لینس میں ان اہم پہلوؤں کو تندہی سے پڑھایا جاتا ہے جس سے آپریشنل صلاحیتوں پر ایک مربوط اثر پیدا ہوتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں