دنیا اسرائیل کو فلسطینیوں کا قتل عام کرنے سے روکے اور جنگ بندی پر مجبور کرے: پاکستان

غزہ سے فلسطینیوں کی بےدخلی کے بعد اسرائیل مغربی کنارے سے فلسطینیوں کو بےدخل کرے گا، پاکستانی مندوب کا انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام سے اسرائیل کو روکا جائے اور فوری جنگ بندی کرائی جائے۔ پاکستان کے مندوب نے اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جاری بمباری اور فلسطینیوں کے قتل عام کی سخت مذمت کی۔

پاکستان کے اقوام متحدہ میں مندوب منیر اکرم نے ان خیالات کا اظہار عرب نیوز کو نیویارک سے زوم پر دیے جانے والے انٹرویو کے دوران کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا اس وقت غزہ میں فلسطینیوں کی بقا کو مسئلہ درپیش ہے۔

یاد رہے فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اب تک لگ بھگ چھ ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ جبکہ اسرائیل غزہ میں ایک بڑے زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ اور ریلیف سے متعلق تنظیموں نے خبردار کر رکھا ہے کہ اگر خوارک، ادویات اور صاف پانی کی فراہمی کا سلسلہ بہتر نہ ہوا تو اسرائیل کے زیر محاصرہ غزہ میں دوسری تباہی کے بعد اب ہیضے اور اس طرح کی وبائی امراض کے پھوٹنے کا بھی خدشہ ہے۔

منیر اکرم نے اپنے انٹرویو میں کہا 'ہمیں سب سے پہلے فلسطینیوں کے قتل عام کو رکوانے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی لازمی ہے۔ جنگ بندی کے بعد ہی پانی و بجلی سے لے کر تمام بنیادی ضروریات کی فراہمی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ '

پاکستانی مندوب نے کہا 'دنیا کو اس مشکل گھڑی میں فلسطینی عوام کی لازماً مدد کو آگے آنا چاہیے کہ اس وقت فلسطینیوں کی بقاء کا مسئلہ درپیش ہے۔ اگر غزہ کی صورت حال کو نظرانداز کیا جاتا رہا تو اسرائیل کی جانب سے مزید ظلم و ضبر کے واقعات سامنے آئیں گے۔'

منیر اکرم نے کہا ہمیں اس اسرائیلی کوشش کو ناکام بنانا اور مسترد کرنا چاہیے جس کے تحت وہ فلسطینی عوام کو غزہ سے نکال کر مصر یا اس کے صحرائے سینا کی طرف دھکیل دینا چاہتا ہے۔ اگر ایک بار غزہ سے فلسطینیوں کو بمباری اور طاقت کے زور پر نکال دیا گیا تو پھر مغربی کنارے میں بھی اسرائیل اسی طریقے کو اختیار کر سکتا ہے تاکہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین (فلسطین)سے مکمل بے دخل کر سکے۔'

ایک سوال کے جواب میں پاکستانی مندوب نے کہا 'جنگ بندی کے بعد ہی یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ پر امن انداز میں مذاکرات ہوں اور دوریاستی حل کی جانب پیش رفت کی امید کی جائے۔'

منیر اکرم نے مزید کہا 'پاکستان وہ پہلا ملک ہے جس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا اور جنگ بندی کروانے کا کہا۔ نیز انسانی بنیادوں پر امدادی رسائی ممکن بنانے کے علاوہ غزہ کے رہائشیوں کو بے دخلی سے بچانے کا مطالبہ کیا۔ اب یہ مطالبہ او آئی سی اور سارے عرب ملکوں کا ہے۔'

ایک سوال پر انہوں نے کہا سلامتی کونسل جنگ بندی کرانے میں ناکام رہی کہ امریکہ نے پچھلے بدھ کو سامنے آنے والی قرار داد کے خلاف ویٹو استعمال کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں